فضل الرحمان کا سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرکے سرکاری زمین مدرسے کے لئے الاٹ کرانے کا انکشاف

فضل الرحمان کا سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرکے سرکاری زمین مدرسے کے لئے الاٹ کرانے کا انکشاف

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر جی-13 میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے منسوب مرکزی مدرسے کی تعمیر کے لیے سرکاری زمین کی الاٹمنٹ کا معاملہ سامنے آگیا۔ آزاد ڈیجیٹل کے ذرائع کے مطابق مدرسے کے لیے قیمتی سرکاری اراضی اس دور میں مختص کی گئی جب مولانا فضل الرحمان کے قریبی سیاسی ساتھی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینئر رہنما اکرم خان درانی وفاقی وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے منصب پر فائز تھے۔

آزاد ڈیجیٹل کے ذرائع نے بتایا کہ اسلام آباد کے سیکٹر جی-13 میں ایک بڑے مرکزی مدرسے کی تعمیر جاری ہے، جسے مولانا فضل الرحمان سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس مدرسے کی زمین کی الاٹمنٹ اور اس کے پس منظر سے متعلق اہم سوالات سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مدرسے کے لیے سرکاری زمین کی تخصیص اکرم خان درانی کے دورِ وزارت سے منسلک ہے۔ اکرم درانی 2013 سے 2017 تک وفاقی وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس رہے۔ ان کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں سے ہے اور وہ اس سے قبل صوبے کے وزیراعلیٰ بھی رہ چکے ہیں۔

آزاد ڈیجیٹل نے سوال اٹھایا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے قیمتی سیکٹر جی-13 میں ایک مرکزی مدرسے کے لیے سرکاری زمین کی منظوری کس قانون اور ضابطے کے تحت دی گئی؟ اس فیصلے کی منظوری کس سرکاری افسر یا ادارے نے دی اور الاٹمنٹ کے لیے کون سی شرائط طے کی گئیں؟

آزاد ڈیجیٹل کے مطابق اس معاملے میں یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ زمین کی الاٹمنٹ معمول کے قانونی طریقہ کار کے تحت ہوئی یا اس کے لیے کوئی خصوصی منظوری حاصل کی گئی۔ اسی طرح یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا زمین مختص کرنے کے فیصلے میں کسی سیاسی اثر و رسوخ کا کردار تھا؟

مدرسے کی تعمیر کے لیے مختص زمین کی ملکیت، الاٹمنٹ کی تاریخ، منظوری دینے والی اتھارٹی اور متعلقہ سرکاری ریکارڈ سے متعلق بھی وضاحت ضروری ہے۔

آزاد ڈیجیٹل نے سوال اٹھایا کہ جب اکرم خان درانی وفاقی وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس تھے تو ان کے قریبی سیاسی ساتھی مولانا فضل الرحمان سے منسوب مدرسے کے لیے سرکاری اراضی کی تخصیص کا فیصلہ کن بنیادوں پر کیا گیا؟

اس معاملے میں مولانا فضل الرحمان، اکرم خان درانی اور متعلقہ سرکاری اداروں سے زمین کی الاٹمنٹ کی قانونی حیثیت، منظوری کے طریقہ کار اور شرائط کی وضاحت کے سوالات سامنے آتے ہیں۔

آزاد ڈیجیٹل کے مطابق عوامی اہمیت کی حامل سرکاری زمین کی الاٹمنٹ سے متعلق مکمل حقائق سامنے آنا ضروری ہیں، تاکہ واضح ہوسکے کہ زمین کس اتھارٹی نے، کس تاریخ کو، کن شرائط اور کس قانونی اختیار کے تحت مختص کی۔

Related Articles