وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں غیر قانونی تجاوزات کی کوریج کے دوران آزاد ڈیجیٹل کے رپورٹر طیب سرور کو ہراساں کرنے، اسلحے کے زور پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے اور ان کے پیچھے کتے چھوڑنے کے واقعے پر فضل الرحمان سے منسوب مدرسے کی انتظامیہ کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی۔
فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق آزاد ڈیجیٹل کے رپورٹر طیب سرور سیکٹر ایف ایٹ میں واقع مدرسے کو سی ڈی اے کی جانب سے غیر قانونی تجاوزات پر جاری کردہ نوٹسز کی کوریج کر رہے تھے کہ اس دوران ان کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا۔
آزاد ڈیجیٹل کی جانب سے مولانا فضل الرحمان سے منسوب مدرسے، گھروں اور دیگر مقامات پر تجاوزات سے متعلق سی ڈی اے کے نوٹسز کی کوریج جاری تھی۔ رپورٹر طیب سرور کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے اور ان کے پیچھے کتے چھوڑنے کے واقعے پر مدرسے کی انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں دفعہ 506(2) اور 511 شامل کی گئی ہیں۔ دفعہ 506(2) کے تحت سنگین مجرمانہ دھمکی کا جرم ثابت ہونے پر سات سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ صحافتی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں رکاوٹ ڈالنے اور رپورٹر کو دھمکیاں دینے کے معاملے پر مدرسے کی انتظامیہ کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
آزاد ڈیجیٹل کے رپورٹر طیب سرور پر کتے چھوڑنے اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے واقعے کی ایف آئی آر درج ہونے کے بعد پولیس نے تفتیش کا آغاز کردیا ہے۔
صحافی محمد طیب نے واقعی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مدرسے پہنچنے پر وہاں موجود طلباء نے ان سے بار بار پوچھا کہ وہ کس ادارے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق طلباء نے ان کے ساتھ بدتمیزی کی، انہیں ہراساں کیا اور موبائل فون حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔
نمائندہ آزاد ڈیجیٹل نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ جب انہوں نے وہاں سے نکلنے کی کوشش کی تو ان کے پیچھے دو سے تین کتے چھوڑ دیے گئے، جس کے بعد انہیں اپنی حفاظت کے لیے وہاں سے بھاگنا پڑا۔
صحافی کے مطابق وہ مدرسے سے نکلنے کے بعد دو سے تین گلیاں عبور کرکے ایک محفوظ مقام پر پہنچے، جہاں انہوں نے ویڈیو پیغام کے ذریعے واقعے کی تفصیلات بیان کیں۔
آزاد ڈیجیٹل کے نمائندے نے سوال اٹھایا کہ کیا بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزیوں اور سرکاری نوٹس کے بارے میں سوال کرنا جرم ہے؟ کیا کسی صحافی کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری ادا کرنے پر اس طرح کے سلوک کا سامنا کرنا چاہیے؟
صحافی محمد طیب پر حملہ اور ہراسانی کے اس شرمناک واقعے پر ’آزاد ڈیجیٹل‘ نے فوری طور پر قانونی چارہ جوئی کی، جس کے نتیجے میں تھانہ مارگلہ میں مدرسہ معارفِ شریعہ کی انتظامیہ اور ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے واقعے کی باقاعدہ تفتیش شروع کر دی ہے۔