علاقائی سلامتی کے لیے مشترکہ دفاع ناگزیر، شام نے بھی مکہ الائنس میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کردی

علاقائی سلامتی کے لیے مشترکہ دفاع ناگزیر، شام نے بھی مکہ الائنس میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کردی

شام نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ پر مشتمل مکہ دفاعی اتحاد میں شمولیت میں دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ اس حوالے سے بات چیت جاری ہے۔

شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے بحرین میں منعقدہ منامہ ڈائیلاگ 2026 کے دوران علاقائی سلامتی سے متعلق ایک نشست میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شام کی مکہ الائنس میں ممکنہ شمولیت کا جائزہ لینے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔

شامی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مکہ الائنس علاقائی سلامتی کے لیے ایک اہم فورم ہے اور شام بھی خطے کے سکیورٹی نظام کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دمشق علاقائی استحکام، مشترکہ سلامتی اور امن کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی حمایت کرے گا۔

اسعد الشیبانی نے کہا کہ موجودہ علاقائی حالات میں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے اور خطے کو پہلے سے کہیں زیادہ مشترکہ دفاعی نظام اور دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کا سب سے بڑا ڈراؤنا خواب حقیقت بن گیا، مکہ اتحاد کی تہران میں بیٹھک نے علاقائی اسٹرٹیجک نقشہ ہی بدل ڈالا

انہوں نے زور دیا کہ علاقائی سلامتی کو کسی ایک ملک تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ خطے کے ممالک کا امن اور استحکام ایک دوسرے سے منسلک ہے۔

شامی وزیر خارجہ کے مطابق شام ایسے علاقائی تعاون اور دفاعی انتظامات کی حمایت کرتا ہے جن کا مقصد مشترکہ سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانا ہو۔

واضح رہے کہ مکہ دفاعی اتحاد میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ شامل ہیں، جبکہ شام کی جانب سے اس اتحاد کا حصہ بننے کے امکانات پر بات چیت جاری ہے۔ تاہم شامی وزیر خارجہ نے ابھی کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا۔

Related Articles