مولانا کی کشمیر کا سودا اور بھارت سے ہاتھ ملانے کی باریک واردات پکڑی گئی، بھارتی اخبار دی ٹیلی گراف نےکچا چٹھا کھول دیا

مولانا کی کشمیر کا سودا اور  بھارت سے ہاتھ ملانے کی باریک واردات پکڑی گئی، بھارتی اخبار دی ٹیلی گراف نےکچا چٹھا  کھول دیا

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے جولائی 2003 میں کیے گئے دورہ بھارت سے متعلق بھارتی اخبار دی ٹیلیگراف کی 31 جولائی 2003 کی رپورٹ میں ان کے کشمیر پر مؤقف، بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی سے ملاقات، ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے رہنماؤں سے رابطوں اور امریکہ کے حوالے سے ان کی سیاسی حکمتِ عملی سے متعلق اہم انکشافات کئے ہیں۔ 

بھارتی اخبار دی ٹیلیگراف میں صحافی بھارت بھوشن نے اپنے مضمون ’’مولانا آن اے مشن‘‘ میں مولانا فضل الرحمان کے دورے کے مقاصد اور پاک بھارت تعلقات پر اس کے ممکنہ اثرات کا تجزیہ کیا تھا۔ مضمون نگار کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے بھارت میں اپنے بیانات اور ملاقاتوں کے ذریعے ایک نسبتاً اعتدال پسند اور عملی سیاسی رہنما کا تاثر پیش کیا، جسے امریکہ کے لیے بھی ایک ممکنہ سیاسی پیغام کے طور پر دیکھا جا سکتا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مولانا فضل الرحمان پاکستان میں امریکہ مخالف سیاسی مؤقف رکھنے کے باوجود اپنے دورہ بھارت کے دوران ایسے انداز میں سامنے آئے جس سے ان کی سیاسی لچک اور مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر ہوتی تھی۔ مضمون نگار نے اس امکان پر بھی بحث کی کہ ان کے دورے کو پاکستان اور بھارت کی سیاسی قیادت کی رضامندی حاصل ہو سکتی تھی، تاہم اسے ایک تجزیاتی مفروضے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔

دی ٹیلیگراف کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے بھارتی مسلمانوں سے گفتگو میں مسئلہ کشمیر کے حل کی ضرورت تسلیم کی، تاہم ان کا مؤقف تھا کہ اس تنازع کو جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے وسیع تر کردار اور ذمہ داریوں پر حاوی نہیں ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: اقتدار گیا تو اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی ! فضل الرحمن اور جاوید ہاشمی کی مفاد پرست سیاست پر فیصل آباد کے عوام کی سخت تنقید

رپورٹ میں مولانا فضل الرحمان کے دیوبند میں دیے گئے بیانات کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی۔ مضمون نگار کے مطابق انہوں نے کشمیر کو مذہبی تنازع کے بجائے دو حکومتوں کے درمیان سیاسی اور علاقائی مسئلہ قرار دیا اور اس کے حل کے لیے شملہ معاہدے کے تحت دوطرفہ مذاکرات کی حمایت کی۔

اخبار کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے یہ امکان بھی ظاہر کیا تھا کہ اگر پاکستان، بھارت اور کشمیری عوام متفق ہوں تو لائن آف کنٹرول کی بنیاد پر بھی کسی حل تک پہنچا جا سکتا ہے۔ تاہم اس بیان کو لائن آف کنٹرول مستقل سرحد بنانے کے کسی باقاعدہ معاہدے یا حتمی فیصلے کے طور پر پیش نہیں کیا گیا تھا۔

دوسری جانب 20 جولائی 2003 کو بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کی شائع کردہ رپورٹ میں مولانا فضل الرحمان کا مؤقف بھی سامنے آیا تھا، جس میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی سے ملاقات کے دوران لائن آف کنٹرول کو بین الاقوامی سرحد بنانے یا شملہ معاہدے پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔

دی ٹیلیگراف کی رپورٹ میں بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی جانب سے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کو بھی اہم قرار دیا گیا تھا۔ مضمون نگار نے لکھا کہ اس وقت بھارتی وزیراعظم پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف، وزیراعظم میر ظفراللہ خان جمالی اور حریت کانفرنس کے رہنماؤں سے ملاقات نہیں کر رہے تھے، لیکن انہوں نے مولانا فضل الرحمان سے اپنی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔

رپورٹ کے مطابق اس ملاقات کے دوران واجپائی نے جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون تنظیم (سارک) کے اجلاس میں شرکت کی تصدیق بھی مولانا فضل الرحمان کے سامنے کی، جبکہ بعد میں بھارتی وزیراعظم کا ایک خط بھی ان کے ذریعے پاکستانی وزیراعظم تک پہنچایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی شہری سوشل میڈیا بالخصوص ’ ایکس ‘ پر مولانا فضل الرحمن کے خلاف کیوں بول رہے ہیں ؟ مولانا کے سوشل میڈیا ارکان کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت

اخبار نے اس امر کی جانب بھی توجہ دلائی تھی کہ مولانا فضل الرحمان کو دورہ بھارت سے قبل پاکستانی حکام نے بریفنگ دی تھی۔ مضمون نگار نے ان حالات کی بنیاد پر یہ امکان ظاہر کیا تھا کہ ان کا دورہ محض ذاتی سیاسی سرگرمی کے بجائے دونوں ممالک کے درمیان غیر رسمی سفارتی روابط کا حصہ ہو سکتا تھا۔

مولانا فضل الرحمان کے دورے کا ایک اہم پہلو ہندو قوم پرست تنظیموں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی تھیں۔ دی ٹیلیگراف کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے نمائندوں سے ملاقات کی اور پاکستان و بھارت کے درمیان اعتماد سازی کے لیے تجارتی اور اقتصادی روابط بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ نئی دہلی کے بااثر حکومتی حلقوں نے ان ملاقاتوں میں سہولت کاری کی۔ مضمون نگار کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے بھارتی وزیراعظم کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے پارلیمانی نمائندوں کو پاکستان بھیجنے کی ضرورت سے بھی آگاہ کیا، جبکہ آر ایس ایس کے وفد کے ممکنہ دورہ پاکستان کا ذکر بھی کیا گیا۔

بھارتی نیوز ویب سائٹ ریڈف کی 25 جولائی 2003 کی رپورٹ میں بھی مولانا فضل الرحمان کی آر ایس ایس اور وشوا ہندو پریشد کے نمائندوں سے ملاقاتوں کی تصدیق کی گئی تھی۔ رپورٹ میں ان ملاقاتوں کو پاک بھارت غیر رسمی سفارت کاری کے تناظر میں دیکھا گیا تھا، جبکہ مولانا کے میزبان محمود مدنی نے کسی خفیہ ایجنڈے کی تردید کرتے ہوئے دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان امن کا فروغ قرار دیا تھا۔

دی ٹیلیگراف کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے بھارت میں کٹرہ اور ٹانڈہ کے فوجی کیمپ پر ہونے والے عسکری حملوں کی مذمت بھی کی تھی۔

اخبار نے مزید لکھا کہ مولانا فضل الرحمان نے پاکستان واپسی کے بعد بھی اپنے دورہ بھارت کے دوران اختیار کیے گئے مؤقف سے دستبرداری اختیار نہیں کی۔ ان کے مطابق کشمیری عسکریت پسندوں سے ہمیشہ مسلح رہنے کی توقع نہیں کی جا سکتی اور کشمیر کے عوام کو پُرامن زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔

بھارت بھوشن نے اپنے تجزیے میں یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ کشمیر، شملہ معاہدے اور لائن آف کنٹرول سے متعلق بعض تجاویز ایسی تھیں جنہیں جنرل پرویز مشرف یا وزیراعظم جمالی کے لیے براہِ راست پیش کرنا سیاسی طور پر مشکل ہو سکتا تھا، کیونکہ انہیں پاکستان کے مفادات پر سمجھوتے کے الزامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔

مضمون نگار کے مطابق مولانا فضل الرحمان جیسے مذہبی اور سیاسی رہنما کی جانب سے ان موضوعات پر گفتگو پاک بھارت امن عمل میں بعض متنازع تجاویز کی سیاسی قبولیت بڑھانے کا ذریعہ بن سکتی تھی۔

رپورٹ میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا تھا کہ اس دورے کے پس منظر میں پاکستانی اور بھارتی حکومتی حلقوں کے علاوہ امریکی دلچسپی بھی موجود ہو سکتی تھی، تاہم مضمون میں اس حوالے سے کوئی حتمی ثبوت پیش نہیں کیا گیا تھا۔

دی ٹیلیگراف نے اپنے تجزیے میں مولانا فضل الرحمان کے دورے کو پاک بھارت تعلقات میں غیر رسمی سفارت کاری اور سخت گیر سیاسی و مذہبی حلقوں کے درمیان مذاکرات کے تناظر میں اہم قرار دیا تھا۔ مضمون نگار کا خیال تھا کہ ایسے روابط دونوں ممالک میں امن عمل کے لیے سیاسی گنجائش پیدا کر سکتے ہیں۔

یوں جولائی 2003 میں مولانا فضل الرحمان کے دورہ بھارت سے متعلق ان بھارتی اخباری رپورٹس میں کشمیر کے حل، دوطرفہ مذاکرات، لائن آف کنٹرول، بھارتی مذہبی تنظیموں سے روابط اور علاقائی سفارت کاری کے حوالے سے ان کے بیانات اور ملاقاتوں کی تفصیلات سامنے آتی ہیں۔ تاہم دورے کے مبینہ خفیہ مقاصد، امریکی کردار اور پس پردہ سیاسی مفاہمت سے متعلق نکات کو اخباری تجزیوں اور مفروضوں کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔

Related Articles