فضل الرحمان کا راولپنڈی میں اصطبل بھی نکل آیا، گھوڑوں کی کثیر تعداد کے مالک، ڈرائیور، باورچی اور سکیورٹی گارڈ بھی سرکاری ملازم نکلے
Home - آزاد انتخاب - فضل الرحمان کا راولپنڈی میں اصطبل بھی نکل آیا، گھوڑوں کی کثیر تعداد کے مالک، ڈرائیور، باورچی اور سکیورٹی گارڈ بھی سرکاری ملازم نکلے
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے منسوب اسلام آباد کی قیمتی جائیدادوں کے بعد شاہ اللہ دتہ کے علاقے میں گھوڑوں کے ایک بڑے اصطبل، نجی رہائش گاہوں میں سرکاری ملازمین کی تعیناتی اور پشاور کے مفتی محمود مرکز کی تعمیر کے لیے لیبیا سے مالی معاونت حاصل کرنے سے متعلق نئے دعوے سامنے آگئے۔ ان معاملات میں سرکاری وسائل کے استعمال، ملازمین کی بھرتیوں اور مالی معاملات کی شفافیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے قومی احتساب بیورو (نیب) سے جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمٰن سے منسوب چار پرتعیش رہائش گاہوں کے علاوہ شاہ اللہ دتہ کے علاقے میں گھوڑوں کا ایک بڑا اصطبل بھی موجود ہے، جہاں تقریباً دو درجن قیمتی گھوڑے رکھے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ اس اصطبل کا انتظام ایسے سرکاری ملازمین کے سپرد ہے جنہیں مولانا فضل الرحمٰن کے صاحبزادے اسد محمود کے دورِ وزارت میں بھرتی کیا گیا تھا۔ ان بھرتیوں میں وزارتی اختیارات اور سیاسی اثر و رسوخ کے استعمال کا سوال بھی اٹھایا گیا ہے۔
اس معاملے میں یہ جاننے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے کہ اصطبل کی اصل ملکیت کس کے نام ہے، وہاں تعینات ملازمین کن سرکاری محکموں سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی تنخواہوں اور دیگر اخراجات کی ادائیگی کس مد سے کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب فراہم کردہ معلومات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسلام آباد میں فضل الرحمٰن سے منسوب رہائش گاہوں پر گھریلو خدمات انجام دینے والے متعدد افراد بھی سرکاری ملازمین ہیں۔
ان افراد میں ڈرائیورز، معاون ڈرائیورز، باورچی، دھوبی، چوکیدار، خاکروب، سکیورٹی گارڈز اور دیگر گھریلو خدمات انجام دینے والا عملہ شامل بتایا گیا ہے۔
معلومات کے مطابق ان ملازمین کی بھرتیوں کا تعلق اسد محمود کے دورِ وزارت اور مولانا فضل الرحمٰن کے دورِ چیئرمین کشمیر کمیٹی سے جوڑا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے سوال اٹھایا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین کو نجی رہائش گاہوں اور ذاتی امور کی انجام دہی کے لیے کس قانون اور ضابطے کے تحت تعینات کیا گیا۔
اس معاملے میں نیب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ متعلقہ ملازمین کی تقرریوں، سرکاری ریکارڈ، تنخواہوں اور تعیناتیوں کی مکمل جانچ کی جائے تاکہ معلوم ہوسکے کہ سرکاری وسائل کسی نجی مقصد کے لیے استعمال ہوئے یا نہیں۔
ادھر پشاور میں قائم مفتی محمود مرکز کی تعمیر اور اس کے مالی وسائل سے متعلق بھی نئے سوالات سامنے آئے ہیں۔
فراہم کردہ اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مفتی محمود مرکز کی تعمیر لیبیا سے حاصل ہونے والی مالی معاونت سے مکمل کی گئی تھی، جبکہ مرکز میں موجود سہولیات اور اس سے منسلک دیگر تعمیرات کے لیے بھی انہی رقوم سے اخراجات کیے گئے۔
اس حوالے سے قومی احتساب بیورو سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ لیبیا سے حاصل ہونے والی مالی معاونت، رقوم کی منتقلی اور ان کے استعمال کے مکمل ریکارڈ کی چھان بین کی جائے۔
یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ مذکورہ مالی معاونت کن شرائط کے تحت فراہم کی گئی، ان رقوم کے استعمال کا طریقہ کار کیا تھا اور کیا مالی معاملات میں کسی قسم کی غیر قانونی ادائیگی یا کک بیکس شامل تھیں۔
فراہم کردہ معلومات میں مولانا فضل الرحمٰن سے منسوب جائیدادوں، گھوڑوں کے اصطبل، سرکاری ملازمین کی نجی خدمات اور مفتی محمود مرکز کی تعمیر کے لیے حاصل ہونے والی مالی معاونت کے معاملات کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ان معاملات میں متعلقہ سرکاری اداروں، ملازمین کی بھرتیوں کا ریکارڈ رکھنے والے محکموں اور مالی معاملات سے متعلق حکام سے مکمل تفصیلات سامنے لانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔