پاکستان کے تازہ ترین ’نیشنل لیبر فورس سروے 2024-25‘ نے ملک میں روزگار کے مواقعوں میں نمایاں تبدیلیوں کا انکشاف کیا ہے، جس کے مطابق بے روزگاری کی شرح بڑھ کر 7.1 فیصد تک جا پہنچی ہے۔
سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ 5 برسوں میں بے روزگاری میں 0.8 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا، جو معاشی دباؤ اور محدود روزگار کے نئے مواقع کی نشاندہی کرتا ہے۔ سروے کے مطابق اس وقت ملک میں تقریباً 8 ملین افراد بے روزگار ہیں۔
’آئی ایم ایف‘ کی 3 بڑی شرائط
چیف شماریات ڈاکٹر نعیم الظفر نے اسلام آباد میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت دسمبر 2025 تک عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے رکھی گئی 3 بڑی شرائط پوری کر دے گی۔
انہوں نے بتایا کہ مویشیوں کی مردم شماری کے نتائج پہلے ہی جاری ہو چکے ہیں، لیبر فورس سروے آج شائع کر دیا گیا ہے جبکہ گھریلو آمدنی اور اخراجات کا نیا سروے اگلے ماہ جاری ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ اس بار لیبر فورس سروے کا ڈیٹا پہلی بار مکمل طور پر آن لائن اکٹھا کیا گیا، جس کے لیے 196 گنتی کرنے والوں اور 34 فیلڈ فارمیشنز نے ملک بھر سے معلومات جمع کیں۔
آبادی اور لیبر فورس کا ڈھانچہ
2023 کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی کل آبادی 241.49 ملین ہے، جن میں سے 77.2 ملین سے زیادہ افراد فعال لیبر فورس کا حصہ ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ملک کی 43 فیصد آبادی کام کرنے کی عمر میں ہے جبکہ 53.8 فیصد غیر فعال شمار کی گئی ہے۔ سروے کے مطابق پاکستان کی کل آبادی کا 3.3 فیصد حصہ بے روزگار ہے۔
سروسز سیکٹر سب سے بڑا آجر
سروے کے مطابق خدمات کا شعبہ ملک میں سب سے زیادہ روزگار فراہم کرتا ہے۔ خدمات کے شعبے میں روزگار حاصل کرنے والوں کی تعداد 31.83 ملین ہے جو کل ملازمت یافتہ افراد کا 41.7 فیصد بنتا ہے۔ زراعت دوسرا سب سے بڑا روزگار فراہم کرنے والا شعبہ جس میں زرعی شعبہ 33.1 فیصد روزگارمہیا کرتا ہے جہاں 25.53 ملین افراد کام کرتے ہیں۔
صنعتی شعبہ 19.86 ملین افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے جو ملکی ورک فورس کا 25.7 فیصد بنتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس شعبہ جاتی تقسیم سے واضح ہے کہ پاکستان کی معیشت میں خدمات کی بالادستی برقرار ہے، جب کہ زراعت اور صنعت بالترتیب دوسری اور تیسری بڑی آجر قوتیں ہیں۔
اوسط ماہانہ اجرت میں اضافہ، مگر مرد و خواتین میں فرق برقرار
نیشنل لیبر فورس سروے کے مطابق ملک میں اوسط ماہانہ اجرت بڑھ کر 39,042 روپے ہو گئی ہے، جو 2020-21 کی اوسط 24,028 روپے کے مقابلے میں تقریباً 15,014 روپے زیادہ ہے۔
تاہم، سروے میں صنفی فرق برقرار پایا گیا، مرد اوسطاً ماہانہ 39,302 روپے کماتے ہیں، خواتین کی اوسط ماہانہ آمدنی 37,347 روپے ہے۔
معاشی ماہرین کی رائے
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بے روزگاری میں اضافے کے ساتھ اجرتوں کا بڑھنا بظاہر مثبت رجحان ہے، تاہم مہنگائی اور معاشی دباؤ کے باعث حقیقی اجرتیں اب بھی محدود ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ روزگار کے پائیدار مواقع پیدا کیے بغیر اور صنعتی پیداوار بڑھائے بغیر یہ اعداد و شمار مزید خراب ہو سکتے ہیں۔