عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں کمی کا سلسلہ جمعہ کو بھی جاری رہا اور قیمتی دھات رواں ہفتے مجموعی طور پر 2 فیصد سے زائد کمی کے ساتھ ہفتہ وار خسارے کی جانب بڑھ رہی ہے۔ مارکیٹ میں سونے کی قیمت پر اس وقت سب سے نمایاں دباؤ امریکی ڈالر کی مضبوطی، امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ اور فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود بلند رکھنے کے امکانات کا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعہ کو اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.2 فیصد کمی کے بعد 4,270.83 ڈالر فی اونس پر آگئی جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز 0.2 فیصد اضافے کے بعد 4,305.10 ڈالر فی اونس پر پہنچ گئے۔ رواں ہفتے اب تک اسپاٹ گولڈ میں 2 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی جاچکی ہے۔
سونے کی قیمت میں موجودہ کمی کی ایک بڑی وجہ امریکی ڈالر کی مضبوطی ہے۔ چونکہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت ڈالر میں طے ہوتی ہے، اس لیے ڈالر مضبوط ہونے پر دیگر کرنسیوں میں خریداری کرنے والوں کے لیے سونا نسبتاً مہنگا ہوجاتا ہے، جس سے طلب پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ بھی سونے کے لیے دباؤ کا باعث بن رہا ہے۔ سونا خود کوئی باقاعدہ منافع یا شرح سود فراہم نہیں کرتا، اس لیے جب بانڈز اور دیگر شرح سود سے منسلک اثاثوں پر منافع بڑھتا ہے تو بعض سرمایہ کار اپنی رقم سونے کے بجائے ان اثاثوں کی طرف منتقل کرسکتے ہیں۔
مارکیٹ میں فیڈرل ریزرو کی آئندہ پالیسی بھی سونے کے لیے اہم ترین عوامل میں شامل ہے۔ رائٹرز کے مطابق فیڈ کے بعض حکام نے بلند افراط زر سے نمٹنے کے لیے شرح سود مزید بلند رکھنے کی ضرورت کی طرف اشارہ کیا ہے، جس سے مارکیٹ میں مزید شرح سود میں اضافے کی توقعات بڑھی ہیں۔
آنے والے دنوں میں سونے کے ساتھ کیا ہوسکتا ہے؟
ماہرین کے لیے اس وقت سونے کی اگلی سمت کا انحصار بنیادی طور پر امریکی ڈالر، افراط زر کے اعدادوشمار، ٹریژری ییلڈز اور فیڈرل ریزرو کے آئندہ بیانات پر ہوگا۔
اگر امریکی افراط زر بلند رہتی ہے اور فیڈ کی جانب سے شرح سود مزید بلند رکھنے کے اشارے ملتے ہیں تو ڈالر اور بانڈ ییلڈز کو سہارا مل سکتا ہے، جس کے نتیجے میں سونے پر مزید دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہوگا۔
اس کے برعکس اگر آنے والے معاشی اعدادوشمار مہنگائی میں کمی یا معیشت میں کمزوری کی نشاندہی کرتے ہیں اور مارکیٹ میں شرح سود میں مزید اضافے کی توقع کم ہوتی ہے تو ڈالر اور ییلڈز پر دباؤ آسکتا ہے۔ ایسی صورت میں سونے کو دوبارہ طلب ملنے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔
ایک اور اہم عنصر عالمی جغرافیائی کشیدگی ہے۔ موجودہ عالمی کشیدگی اور حکومتی قرضوں میں اضافے کے باعث سونے کی بطور محفوظ اثاثہ طلب برقرار رہ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلند شرح سود کے دباؤ کے باوجود سونے کی قیمت میں یکطرفہ اور مسلسل کمی کو یقینی سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
رائٹرز کے مطابق رواں ہفتے سونے میں کمزوری کے باوجود مارکیٹ میں یہ عوامل بھی موجود ہیں جو قیمت کو سہارا دے سکتے ہیں، خصوصاً عالمی جغرافیائی خطرات اور محفوظ سرمایہ کاری کی طلب۔
پاکستان میں سونے کی قیمت پر کیا اثر پڑے گا؟
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں کمی کا اثر پاکستان میں بھی پڑ سکتا ہے، تاہم مقامی قیمت صرف عالمی سونے کے نرخ سے طے نہیں ہوتی۔ ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر، مقامی مارکیٹ کی طلب اور عالمی قیمت بھی پاکستانی سونے کے نرخ کو متاثر کرتے ہیں۔
اگر عالمی سونا مزید کم ہوتا ہے اور پاکستانی روپیہ نسبتاً مستحکم رہتا ہے تو مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونے کی قیمت میں مزید کمی کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر عالمی قیمت میں کمی کے دوران ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کمزور ہوتا ہے تو پاکستان میں سونے کی قیمت میں کمی محدود ہوسکتی ہے۔
چاندی اور دیگر دھاتیں بھی دباؤ میں
سونے کے ساتھ دیگر قیمتی دھاتوں میں بھی کمی دیکھی گئی۔ اسپاٹ چاندی 0.5 فیصد کمی کے بعد 63.59 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 0.1 فیصد کمی کے بعد 1,746.36 ڈالر جبکہ پیلیڈیم 1.9 فیصد کمی کے بعد 1,249.71 ڈالر فی اونس ہوگیا۔
یہ تینوں دھاتیں بھی رواں ہفتے مجموعی طور پر کمی کی جانب گامزن ہیں۔
یوں آنے والے دنوں میں سونے کی سمت کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہوگا کہ امریکی شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات بڑھتے ہیں یا کم ہوتے ہیں۔ فی الحال بلند شرح سود، مضبوط ڈالر اور بڑھتی ییلڈز سونے پر دباؤ ڈال رہے ہیں، جبکہ عالمی کشیدگی اور محفوظ سرمایہ کاری کی طلب قیمت کے لیے ممکنہ سہارا فراہم کررہی ہے۔