سینئر صحافی اورمعروف تجزیہ کار اظہر جاوید نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے آٹھ فروری کو دی جانے والی کال کے پس منظر میں نومئی 2023 جیسا ماڈل تیار کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ محض سیاسی احتجاج تک محدود نہیں بلکہ اس کے ذریعے ملک میں بڑے پیمانے پر بدامنی، توڑ پھوڑ اور ریاستی اداروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
اظہر جاوید کا کہنا ہے کہ ان کے ذرائع کے مطابق اس مبینہ منصوبے کے لیے بین الاقوامی سطح پر فنڈنگ کی جا رہی ہے، بالکل اسی طرز پر جیسے نومئی کے واقعات کے دوران دیکھنے میں آیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس ماڈل کے تحت ریاستی اداروں پر حملے کرائے گئے، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور ملک میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی گئی تھی، جسے اب ایک بار پھر دہرایا جا سکتا ہے۔
اظہر جاوید نے کہا کہ اس منصوبے میں دشمن قوتیں پاکستان تحریک انصاف کو بطور فرنٹ استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اس تمام صورتحال میں ایک خطرناک گٹھ جوڑ سامنے آ رہا ہے۔
اس گٹھ جوڑ میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور پی ٹی آئی کے ایک مبینہ ونگ کے درمیان روابط کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہےاظہر جاوید نے مزید بتایا کہ اس منصوبے کا آغاز خیبرپختونخوا سے کیے جانے کا امکان ہے۔
کے پی کے سے لوگوں کو منظم طریقے سے اسلام آباد لانے کی کوشش کی جائے گی ، پاکستان کا ازلی دشمن بھارت جو خطے میں اپنی شکستوں کے زخم چاٹ رہا ہے اس سازش میں مرکزی کردار ادا کر سکتا ہے اور مالی معاونت کے ذریعے حالات خراب کرنے کی کوشش ہوسکتی ہے۔
اظہر جاوید کا مزید کہنا تھا کہ اطلاعات کے مطابق آٹھ فروری کے موقع پر ٹی ٹی پی کے تربیت یافتہ اہلکاروں کو خفیہ طریقے سے اسلام آباد منتقل کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے تاکہ ان کے ذریعے ایک منظم سازش کے تحت فسادات کرائے جائیں۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ذرائع اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ بھاری اسلحہ بھی لائے جانے کا خدشہ موجود ہے جو صورتحال کو مزید خطرناک بنا سکتا ہے،اظہر جاوید کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ مگر ملک کے امن، سلامتی اور ریاستی رٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیےواضح رہے کہ ان الزامات اور دعوؤں پر متعلقہ اداروں یا پی ٹی آئی کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔