گوگل کے جیمینائی اے آئی ماڈل نے سائبر سکیورٹی کی ایک آزمائش کے دوران انٹرنیٹ پر دستیاب معلومات کا استعمال کرتے ہوئے تین ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرلی۔
اس واقعے کو گوگل کے اے آئی سسٹم کی جانب سے ٹیسٹنگ کے دوران خودکار طور پر اس نوعیت کی کارروائی کرنے کی ایک نمایاں مثال قرار دیا جارہا ہے۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ ٹیسٹ رواں سال مئی میں آزاد سائبر سکیورٹی ادارے اِرریگولر کی جانب سے کیا گیا تھا۔ آزمائش کے دوران جیمینائی نے انٹرنیٹ پر دستیاب معلومات تلاش کیں اور ان معلومات کی بنیاد پر حاصل کیے گئے ممکنہ لاگ اِن تفصیلات کے ذریعے تین ویب سائٹس تک رسائی حاصل کی۔ یہ ویب سائٹس ٹیسٹ کے دائرہ کار میں شامل تھیں، اس لیے یہ کارروائی حقیقی سائبر حملے کے بجائے ایک کنٹرولڈ سکیورٹی ٹیسٹ کا حصہ تھی۔
گوگل کی سکیورٹی انجینئرنگ کی نائب صدر ہیدر ایڈکنز کے مطابق تینوں اداروں کو اس واقعے سے آگاہ کردیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ گوگل نے اپنے ٹریننگ پارٹنر کے ساتھ مل کر ٹیسٹنگ کے طریقہ کار میں تبدیلیاں بھی کی ہیں۔
اِرریگولر کے ترجمان کے مطابق سامنے آنے والے مسائل کی نوعیت دیگر اے آئی لیبارٹریز کو درپیش مسائل سے ملتی جلتی تھی اور متعلقہ اداروں کو جولائی کے آخر میں اس بارے میں آگاہ کردیا گیا تھا۔ ترجمان نے بتایا کہ شناخت کیے گئے تمام مسائل کو چند ہفتے قبل حل کردیا گیا۔
اے آئی کی بڑھتی صلاحیتیں اور سکیورٹی
گوگل کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے کہ زیادہ طاقتور اے آئی ماڈلز کو ذمہ داری کے ساتھ کام کرنے کی تربیت دی جائے۔ جیمینائی جیسے جدید اے آئی ماڈلز اب صرف سوالات کے جواب دینے تک محدود نہیں رہے بلکہ وہ ویب پر معلومات تلاش کرنے اور مختلف ڈیجیٹل کام انجام دینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
اسی وجہ سے سائبر سکیورٹی ماہرین کے لیے یہ اہم ہوگیا ہے کہ ایسے ماڈلز کو کس حد تک خودمختاری دی جائے اور انہیں غیر مجاز رسائی یا غلط استعمال سے کیسے محفوظ رکھا جائے۔
یہ واقعہ حقیقی دنیا میں کسی کمپنی پر سائبر حملے کے بجائے ایک سکیورٹی ٹیسٹ کے دوران سامنے آیا، تاہم اس نے اے آئی ماڈلز کی بڑھتی ہوئی عملی صلاحیتوں اور ان کے محفوظ استعمال سے متعلق بحث کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔