افغان نائب ترجمان کا پاکستان پر شہریوں کو نشانہ بنانے کے بے بنیاد الزامات، پاکستان کا ہدف صرف دہشتگرد

افغان نائب ترجمان کا پاکستان پر شہریوں کو نشانہ بنانے کے بے بنیاد الزامات، پاکستان کا ہدف صرف دہشتگرد

پاکستان کی جانب سے افغانستان میں انٹیلی جنس بنیاد پر دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں حافظ گل بہادر گروپ اور فتنہ الخوارج کے  28 دہشتگردوں کو عین ہدف بنایا گیا ہے تاہم حسب روایت افغانستان اسے شہری آبادی سے منسلک کرنے کے الزامات لگاتا رہا ہے ۔ 

حافظ گل بہادر گروپ سمیت کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے عناصر کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے اور افغانستان سے ملحقہ علاقوں میں دہشت گردوں کی موجودگی پاکستان کے لیے مسلسل سکیورٹی چیلنج بنی ہوئی ہے،  حافظ گل بہادر گروپ کی سرگرمیوں اور شمالی وزیرستان سے اس کے تعلقات کا بھی مختلف سکیورٹی رپورٹس میں ذکر ملتا ہے لیکن افغان حکومت اپنے ہاں سے دہشتگردی کے تانے بانے جڑے رہنے سے انکاری ہی رہی ہے ۔

سماجی رابطے کی ویب  سائٹ ایکس پر افغان نائب ترجمان حمد اللہ  کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستانی طیاروں نے کنڑ کے ضلع نرگال اور پکتیکا کے ضلع برمل میں کارروائیاں کیں، جن میں  ایک گھر کو نقصان پہنچا اور تین افراد جاں بحق ہوئے جو کہ سراسر جھوٹ اور گمراہ کن  ہے ۔

پاکستان ایسی سرحد پار کارروائیوں کے حوالے سے واضح کر چکا ہے کہ اس کے اہداف دہشت گرد تنظیموں کے ٹھکانے اور انفراسٹرکچر ہوتے ہیں ،  گزشتہ کارروائیاں بھی انٹیلی جنس کی بنیاد پر محدود اور درست نشانہ بنانے والی کارروائیاں کی گئی  جبکہ دہشت گرد کیمپوں اور محفوظ پناہ گاہوں کو ہدف بنایا گیا ۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں ریاست کی پالیسی واضح ہے اور سرحد پار موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کو پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں :بلوچستان : سیکیورٹی فورسز کی دشت میرانی میں کارروائی، انسانی اسمگلنگ کی کوشش ناکام، 58 غیر قانونی افغان باشندے گرفتار

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خیبر پختونخوا میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان سکیورٹی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ 18 ستمبر کو کوہاٹ میں پولیس لائنز پر ہونے والے حملے کے بعد بھی پاکستانی حکام نے افغانستان میں موجود مبینہ دہشت گرد پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا تھا۔

editor

Related Articles