ملک بھر میں ٹماٹر کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا سلسلہ جاری ہے جہاں کراچی لاہور راولپنڈی اسلام آباد فیصل آباد اور دیگر شہروں میں ٹماٹر کی قیمت کئی مقامات پر 500 روپے فی کلو سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ ایران سے درآمدات اور بلوچستان سے سپلائی بحال ہونے کے باوجود عوام کو ریلیف نہ مل سکا جبکہ پنجاب میں بھی سرکاری نرخوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث شہری مہنگے داموں ٹماٹر خریدنے پر مجبور ہیں۔
کراچی کی سبزی منڈیوں اور ریٹیل مارکیٹوں میں معیاری ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں جبکہ بعض علاقوں میں فی پاؤ قیمت 110 سے 125 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ سبزی فروشوں کے مطابق ایرانی اور بلوچستان کے مختلف علاقوں خصوصاً کوئٹہ سے آنے والے ٹماٹر محدود مقدار میں دستیاب ہیں جبکہ ٹرانسپورٹ اخراجات سپلائی میں کمی اور بڑھتی ہوئی طلب کے باعث قیمتیں نیچے نہیں آ رہیں۔
دوسری جانب پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان اور دیگر شہروں میں ٹماٹر سرکاری نرخوں کے بجائے کئی گنا زیادہ قیمت پر فروخت کیے جا رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ سرکاری نرخ صرف کاغذوں تک محدود ہیں، جبکہ مارکیٹ میں ان پر عملدرآمد نظر نہیں آتا۔
صارفین کا کہنا ہے کہ درآمدی ٹماٹروں کی آمد کے باوجود قیمتوں میں کمی نہ ہونا انتظامی ناکامی اور منافع خوری کی نشاندہی کرتا ہے۔ کئی مقامات پر چھوٹے یا نسبتاً کچے ٹماٹر بھی 400 روپے فی کلو جبکہ معیاری اور پکے ہوئے ٹماٹر 500 روپے یا اس سے زائد میں فروخت کیے جا رہے ہیں۔
ٹماٹر کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی بنیادی وجوہات میں محدود رسد ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات، خراب موسم، سپلائی چین میں رکاوٹیں اور بعض حلقوں کی جانب سے ذخیرہ اندوزی شامل ہیں۔ اگر مارکیٹ کی مؤثر نگرانی نہ کی گئی تو قیمتوں میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
ٹماٹر کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے صرف گھریلو صارفین ہی نہیں بلکہ ہوٹلوں، ریسٹورنٹس، کیٹرنگ اور فوڈ انڈسٹری کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ متعدد دکانداروں نے مہنگائی کے باعث ٹماٹر کی خریداری کم کر دی ہے، جبکہ کئی خاندانوں نے اخراجات کم کرنے کے لیے ٹماٹر کا استعمال محدود کر دیا ہے۔
شہریوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، خصوصاً پنجاب اور سندھ کی ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری نرخوں پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے سبزی منڈیوں کی مؤثر نگرانی کی جائے اور سپلائی چین کو بہتر بنا کر عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری ریٹ صرف نوٹیفکیشن تک محدود رہے اور بازار میں اس پر عمل نہ ہو تو قیمتوں میں استحکام ممکن نہیں ہوگا۔