مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ شہید، عدلیہ کو نشانہ بنانے کے پسِ پردہ مبینہ محرکات بے نقاب ہونے لگے

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ شہید، عدلیہ کو نشانہ بنانے کے پسِ پردہ مبینہ محرکات بے نقاب ہونے لگے

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشتگرد حملے کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے محافظ کی شہادت نے صوبے میں حالیہ پرتشدد واقعات، عدلیہ کو دی جانے والی مبینہ دھمکیوں اور دہشتگرد تنظیموں کے سیاسی سہولت کاروں کے کردار سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مزدوروں، مسافروں اور سرکاری اہلکاروں کے بعد ایک جج کو نشانہ بنانا بلوچستان میں خوف، انتشار اور ریاستی اداروں کو دباؤ میں لانے کی منظم کوشش کا حصہ ہو سکتا ہے۔

مستونگ میں دہشتگردوں کی فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے محافظ شہید ہو گئے۔ واقعے کے بعد صوبے میں امن و امان کی صورتِ حال اور عدلیہ کو درپیش ممکنہ خطرات پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔

حالیہ دنوں میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشتگردی کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔ ضلع واشک کے علاقے ماشکیل میں 5 مزدوروں کو قتل کیا گیا، جبکہ 22 جولائی کو کھڈکوچہ میں ایک مسافر بس پر فائرنگ کے نتیجے میں 3 افراد جان سے گئے۔ اس سے قبل ایک گاڑی پر فائرنگ کے واقعے میں ایک خاتون بھی جاں بحق ہوئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:ماہ رنگ لانگو کو گوادر احتجاج میں ایف سی اہلکار شبیر بلوچ کے قتل کیس میں عمر قید کی سزا سنا دی گئی

ان واقعات کے بعد سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کو نشانہ بنائے جانے کو بعض حلقے بلوچستان میں خوف و ہراس پھیلانے اور ریاستی اداروں کو کمزور کرنے کی مبینہ مہم کا تسلسل قرار دے رہے ہیں۔

ذرائع انکشاف کر رہے ہیں کہ سیشن جج کی شہادت کے 22 جون 2026ء کے عدالتی فیصلے سے بھی تانے بانے مل رہے ہیں۔ اس روز کوئٹہ کی انسدادِ دہشتگردی عدالت نے بلوچستان یکجہتی کمیٹی کی رہنما ماہ رنگ لانگو کو سزا سنائی تھی۔ اسی روز تنظیم کی رہنما سمی دین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

سمی دین نے اپنے بیان میں کہا تھا، ’جن ججوں پر انصاف کی ذمہ داری عائد تھی، انہوں نے انصاف کا ترازو طاقتوروں کے حق میں جھکا دیا اور یوں آزاد اداروں کے بجائے اقتدار کے اشاروں پر چلنے والی کٹھ پتلیوں کا کردار ادا کیا۔‘

اس بیان کے بعد بلوچستان کے بعض حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ عدلیہ کے خلاف ایسی سخت زبان مستقبل میں ججوں اور عدالتی نظام کے لیے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔

بعض مبصرین کی جانب سے یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ بلوچستان یکجہتی کمیٹی، بلوچستان لبریشن آرمی اور دیگر کالعدم تنظیموں کے درمیان سیاسی اور نظریاتی روابط موجود ہیں۔ انہی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ عدلیہ کے خلاف بیان کو دہشتگرد عناصر نے اشتعال انگیزی کے طور پر استعمال کیا ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:میں نے جو کچھ کیا ماہ رنگ کے احکامات پر کیا، سپاہی شبیر احمد شہید پر پتھراؤ کرنے والے ملزم صبغت اللہ نے رحم کی اپیل کر دی

تاہم سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت اور مذکورہ بیان کے درمیان براہِ راست تعلق سے متعلق کوئی حتمی ثبوت تاحال سامنے نہیں آیا، جبکہ حملے کی ذمہ داری اور محرکات کے حوالے سے تحقیقات جاری رہنے کی ضرورت ہے۔

واقعے نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردی کا نشانہ صرف سیکیورٹی اہلکار نہیں، بلکہ مزدور، مسافر، خواتین، سرکاری افسران اور عدلیہ سے وابستہ شخصیات بھی بن رہی ہیں۔

بلوچستان کے عوامی اور سیاسی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث عناصر، ان کے سہولت کاروں اور ممکنہ منصوبہ سازوں کو بے نقاب کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، جبکہ عدالتی افسران اور دیگر حساس شخصیات کی سکیورٹی مزید مؤثر بنائی جائے۔

Related Articles