پنجاب کے وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات نے سرکاری اسکولوں میں خود تدریسی خدمات انجام دینے کا اعلان کر دیا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ وہ بطور وزیر نہیں بلکہ ایک استاد کی حیثیت سے اسکولوں میں جائیں گے اور بچوں کو خود پڑھائیں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت پر صوبائی وزیرِ تعلیم نے یہ اقدام اٹھایا ہے، جس کا مقصد سرکاری اسکولوں میں تعلیمی معیار، تدریسی نظام اور طلبہ کو درپیش مسائل کو براہِ راست سمجھنا ہے۔
رانا سکندر حیات نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ستمبر کے پہلے ہفتے سے باقاعدہ کلاسز لینا شروع کریں گے، انہوں نے کہا کہ وہ اساتذہ کی دل سے عزت کرتے ہیں اور خود استاد بن کر بچوں کو پڑھانا اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں۔
وزیرِ تعلیم نے اپنے تدریسی منصوبے کے حوالے سے بتایا کہ ان کے پسندیدہ مضامین انگلش اور کیمسٹری ہیں اور وہ انہی مضامین سے تدریس کا آغاز کریں گے وہ پرائمری اسکولوں میں انگلش جبکہ ہائی اسکولوں میں کیمسٹری پڑھائیں گے، تاہم ضرورت کے مطابق دیگر مضامین کی کلاسز بھی لیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد صرف کلاس لینا نہیں بلکہ اسکولوں کے اصل مسائل کو قریب سے دیکھنا، اساتذہ اور طلبہ کے ساتھ براہِ راست رابطہ قائم کرنا اور تعلیمی نظام میں بہتری کے لیے عملی اقدامات کرنا ہے۔
رانا سکندر حیات نے بتایا کہ وہ اپنی اس مہم کو مؤثر اور شفاف بنانے کے لیے اچانک اسکول دورے بھی کریں گے، انہوں نے کہا کہ وہ ہر ہفتے کسی نہ کسی اسکول میں بغیر کسی پیشگی اطلاع کے جائیں گے، جہاں کسی کو معلوم نہیں ہوگا کہ وہ کب اور کس اسکول کا رخ کرنے والے ہیں۔
وزیرِ تعلیم کا کہنا تھا کہ اچانک دوروں کے ذریعے اسکولوں کی حقیقی صورتحال سامنے آئے گی، جس سے مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل میں مدد ملے گی،انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس اقدام سے سرکاری اسکولوں میں معیارِ تعلیم بہتر بنانے کی مہم مزید تیز ہوگی، جبکہ طلبہ، اساتذہ اور محکمہ تعلیم کے درمیان رابطہ بھی مضبوط ہوگا زمینی حقائق کو سمجھ کر ہی تعلیمی اصلاحات کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔