حکومتِ پاکستان نے ملک کو 2047 تک 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ایک اہم پیش رفت کی ہے۔
حکومت اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے گئے ہیں، جس کا مقصد برآمدات پر مبنی معاشی ترقی، نجی شعبے کے ساتھ قریبی تعاون اور پائیدار اقتصادی استحکام کا حصول ہے۔
اسلام آباد میں منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات احسن اقبال اور صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ پاکستان کی معاشی خود مختاری کا راستہ برآمدات کے فروغ سے ہو کر گزرتا ہے، دونوں فریقین نے ملکی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ اگر پاکستان کو بار بار آئی ایم ایف کے پروگراموں پر انحصار سے نجات حاصل کرنی ہے تو برآمدات میں نمایاں اور پائیدار اضافہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا وژن قلیل مدتی اقدامات کے بجائے طویل المدتی منصوبہ بندی پر مبنی ہے، اسی تناظر میں ‘اُڑان پاکستان’ ایک جامع معاشی روڈ میپ ہے، جس کا مقصد صنعتی ترقی، برآمدات میں وسعت، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور ملکی معیشت کو عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بنانا ہے۔
احسن اقبال نے کاروباری برادری پر زور دیا کہ وہ ملکی استحکام اور معاشی ترقی کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرے، انہوں نے کہا کہ سیاسی لانگ مارچ بہت ہو چکے، اب وقت آ گیا ہے کہ اقتصادی لانگ مارچ کیا جائے، کیونکہ پاکستان کے مستقبل کا دار و مدار مضبوط معیشت، صنعتی ترقی اور کاروباری استحکام پر ہے، انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نجی شعبے کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی تاکہ سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافہ ممکن ہو سکے۔
صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے اس موقع پر کہا کہ مفاہمتی یادداشت کا بنیادی مقصد حکومت اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کو فروغ دینا، پالیسی سازی میں کاروباری برادری کی شمولیت کو یقینی بنانا اور برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی ملک بھر کی تاجر برادری کی نمائندہ تنظیم ہے اور وہ حکومت کے اس وژن کو حقیقت بنانے کے لیے بھرپور تعاون کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ پالیسیوں میں تسلسل، کاروباری آسانیاں اور طویل المدتی حکمت عملی اپنائی جائے تاکہ ملکی صنعتیں عالمی منڈیوں میں مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکیں، مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں فریق برآمدات کے فروغ، نئی منڈیوں کی تلاش، صنعتی ترقی اور اقتصادی اصلاحات پر مل کر کام کریں گے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت اور نجی شعبے کے باہمی تعاون سے پاکستان کو ایک مضبوط، خود مختار اور برآمدات پر مبنی معیشت میں تبدیل کیا جائے گا، جو 2047 تک تین ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کی صلاحیت رکھتی ہو۔