ویرات کوہلی انسٹاگرام سے غائب, 27 کروڑ فالوورز اچانک کہاں چلے گئے، مداح حیران و پریشان

ویرات کوہلی انسٹاگرام سے غائب, 27 کروڑ فالوورز اچانک کہاں چلے گئے، مداح حیران و پریشان

بھارتی کرکٹ کے سپر اسٹار ویرات کوہلی کا انسٹاگرام اکاؤنٹ اچانک پلیٹ فارم سے غائب ہو جانا سوشل میڈیا پر ہلچل اور بے یقینی کی کیفیت پیدا کر چکا ہے۔ دنیا بھر میں کروڑوں مداح رکھنے والے کوہلی کے انسٹاگرام پر 274 ملین فالوورز تھے، تاہم اب ان کا اکاؤنٹ نہ صرف سرچ رزلٹس سے غائب ہے بلکہ براہِ راست لنک کے ذریعے بھی اوپن نہیں ہو رہا۔

اس اچانک پیش رفت نے کرکٹ شائقین، ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین کو شدید کنفیوژن میں مبتلا کر دیا ہے۔ مداح یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا ویرات کوہلی نے ذاتی طور پر اپنا اکاؤنٹ ڈی ایکٹیویٹ کیا ہے یا پھر یہ کسی تکنیکی خرابی، پالیسی مسئلے یا انسٹاگرام کی جانب سے عارضی معطلی کا نتیجہ ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہونے والے مختلف اسکرین شاٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ نہ صرف ویرات کوہلی بلکہ ان کے بھائی وکاس کوہلی کا انسٹاگرام اکاؤنٹ بھی اسی وقت غیر فعال ہو چکا ہے۔ اس پہلو نے معاملے کو مزید پراسرار بنا دیا ہے اور قیاس آرائیوں کو تقویت دی ہے کہ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ کسی مشترکہ مسئلے یا فیصلے کا حصہ ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ویرات کوہلی نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ایک اور ریکارڈ اپنے نام کر لیا

ایکس پر متعدد صارفین نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر یہ تکنیکی خرابی ہے تو وہ صرف چند مخصوص اکاؤنٹس تک محدود کیوں ہے، اور اگر یہ ذاتی فیصلہ ہے تو پھر کوہلی کی جانب سے پیشگی یا بعد ازاں کوئی وضاحت کیوں سامنے نہیں آئی۔ اس صورتحال نے سوشل میڈیا پر بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔

تاحال ویرات کوہلی کی سوشل میڈیا ٹیم، مینجمنٹ یا انسٹاگرام کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، جس کے باعث افواہوں اور قیاس آرائیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بعض صارفین کا خیال ہے کہ کوہلی نے سوشل میڈیا سے عارضی کنارہ کشی اختیار کی ہے، جبکہ دیگر کے مطابق یہ معاملہ انسٹاگرام کے سسٹم میں کسی بڑی تکنیکی خرابی یا اکاؤنٹ ویری فکیشن سے متعلق مسئلے کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔

جب تک اس حوالے سے کوئی واضح اور مستند وضاحت سامنے نہیں آتی، ویرات کوہلی کا انسٹاگرام اکاؤنٹ سوشل میڈیا پر ایک بڑا سوالیہ نشان بنا ہوا ہے اور دنیا بھر میں ان کے کروڑوں مداح کسی باضابطہ اعلان کے منتظر ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *