پاکستان کی افغانستان میں 7 ٹھکانوں پر بڑی کارروائی، 12 مزید دہشت گردوں کی ہلاکت کی تصدیق، کل تعداد 40 تک جا پہنچی

پاکستان کی افغانستان میں 7 ٹھکانوں پر بڑی کارروائی، 12 مزید دہشت گردوں کی ہلاکت کی تصدیق، کل تعداد 40 تک جا پہنچی

 پاکستان کی افغانستان میں 7 ٹھکانوں پر بڑی کارروائی، 12 مزید دہشت گردوں کی ہلاکت کی تصدیق، کل تعداد 40 تک جا پہنچی 

اس سے قبل پکتیکا  سمیت دیگر تین افغانی صوبوں میں  میں دہشتگردوں کے ٹھکا نے پرکارروائی کی گئی،دہشتگردوں کا انفراسٹرکچر تباہ ہوگیا۔ افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی افغانستان کے صوبے پکتیکا پکتیا،خوست اور ننگر ہار  میں کی گئی جسے مقامی ذرائع نے بڑا  حملہ قرار دیا ہے۔ ۔

یہ بھی پڑھیں :پاکستان کی افغانستان میں بڑی کارروائی۔ حکومت پاکستان کا موقف سامنےآگیا

افغانستان کی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستانی سیکورٹی فورسز نے افغانستان کے اندر مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا۔ ذرائع کے مطابق حملوں کا مقصد ایسے عناصر کو نشانہ بنانا تھا  جوسرحد پار سے دہشتگرد  سرگرمیاں انجام دے رہے تھے۔

دوسری طرف حکومت پاکستان   کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشتگردوں کے جن ٹھکانوں پر حملے کئے گئے ان میں موجود دہشتگرد عناصر افغانستان میں موجود اپنی قیادت کے زیرِ اثر پاکستان میں دہشتگرد سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔

  ان حملوں کا مقصد ان دہشتگردوں کا نشانہ بنانا تھا جو سرحد پار سے سرگرمیاں انجام دے رہے تھے اور پاکستان میں دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث تھے۔

وزارت اطلاعات کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ دہشتگرد کارروائیاں خوارج نے اپنے افغانستان میں موجود قیادت اور ہینڈلرز کی ہدایت پر انجام دیں۔

ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان، جو فتنہ الخوارج   سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے اتحادی گروہ، نیز دولتِ اسلامیہ خراسان صوبہ   کی جانب سے بھی قبول کی گئی ہے۔

پاکستان کی جانب سے بارہا افغان طالبان حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ قابلِ تصدیق اقدامات کرے تاکہ افغان سرزمین کو دہشتگرد گروہوں اور غیر ملکی پراکسی عناصر کی جانب سے پاکستان میں دہشتگرد سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکا جا سکے، تاہم افغان طالبان حکومت ان عناصر کے خلاف کوئی مؤثر اور ٹھوس کارروائی کرنے میں ناکام رہی۔

پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے کوششیں کی ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنے شہریوں کی حفاظت اور سلامتی ہماری اولین ترجیح ہے۔

editor

Related Articles