شیر افضل مروت نے علیمہ خان کے حوالے سے کئی حیران کن اور سنگین نوعیت کے انکشافات کیے ہیں،انہوں نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے علیمہ خان کے ساتھ بہتر تعلقات موجود ہیں جبکہ مریم نواز شریف نے علیمہ خان کے بیٹوں کی رہائی میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اپنے بیٹوں سے ملاقات کے لیے مری بھی گئی تھیں،شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ علیمہ خان کے بیٹوں کے مقدمات کی سماعت سول عدالت میں ہوئی اور پنجاب حکومت کی جانب سے ان کی ضمانت کی مخالفت میں کوئی درخواست دائر نہیں کی گئی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب علیمہ خان کے بیٹے جیل میں تھے تو انہیں کھانے اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی گئیں اور اس معاملے کو آگے بڑھانے میں تحریک انصاف کے ایک عہدیدار کا اہم کردار رہا۔
یہ بھی پڑھیں :عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کو علی امین گنڈاپور نے 24 کروڑ روپے ادا کیے، شیرافضل مروت
رکن قومی اسمبلی نے یہ بھی کہا کہ 11 اپریل 2024 کو علیمہ خان ایک گروپ بنانے کی کوشش کر رہی تھیں اور اسی سلسلے میں ایک ہوٹل میں ایک وکیل کو بھی بلایا گیا تھا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ علیمہ خان نے وکیل سے کہا تھا کہ ’’کاغذات تیار کرو، چیئرمین شپ حاصل کرنی ہے بعد ازاں وکیل بیرسٹر گوہر کے پاس گئے تو انہوں نے کہا کہ اس معاملے کا فیصلہ عمران خان خود کریں گے۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ علیمہ خان کا کردار ان کے مطابق تنازعات، تصادم اور انتشار کو بڑھانے والا ہے،انہوں نے سوال اٹھایا کہ علیمہ خان نے عمران خان کی رہائی کے لیے کیا عملی اقدامات کیے ہیں۔
شرافضل مروت کا کہنا تھا کہ علیمہ خان کے پاس موجود دولت عمران خان کی دولت کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے اور ان کے پاس پنجاب کے علاوہ گلگت بلتستان میں بھی جائیدادیں موجود ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ علیمہ خان نے نمل یونیورسٹی کے معاملات میں بھی مداخلت کی ہے ،انہوں نے کہا کہ عمران خان نے نمل یونیورسٹی کے عطیات کی ذمہ داری علیمہ خان کو دی تھی۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ وہ اس بات کو چیلنج کرتے ہیں کہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے تاکہ حقیقت سامنے آ سکے شیر افضل مروت نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ علیمہ خان پر تین کروڑ روپے کا جرمانہ منی لانڈرنگ کے الزام میں عائد ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :پی ٹی آئی سوشل میڈیا کے کچھ افراد ڈالروں کیلئے ریاست پر حملہ آور ہیں، شیرافضل
انہوں نے کہا کہ علیمہ خان کی گفتگو اکثر سخت اور متنازع الفاظ پر مشتمل ہوتی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ سیاسی صورتحال میں جو کشیدگی پیدا ہوئی ہے اس میں علیمہ خان کی زبان کا بھی کردار رہا ہے
انہوں نے الزام لگایا کہ علیمہ خان نے سوشل میڈیا پر ان کے خلاف گالم گلوچ کرنے والے گروہ کو منظم کر رکھا ہے یہ گروہ براہ راست کنٹرول کیا جاتا ہے اور اس کے لیے ایک خصوصی سوشل میڈیا ونگ بھی بنایا گیا ہے جہاں ارکان کو خصوصی تربیت دی جاتی ہے جبکہ بعض افراد کو مالی معاونت اور دیگر مراعات بھی دی جاتی ہیں۔

