دنیا کے معروف فلمی ایوارڈز ’آسکرز‘ کی تقریب اس بار صرف فلمی اعزازات تک محدود نہ رہی بلکہ عالمی سیاست اور جنگ کے خلاف آواز بھی اس بڑے پلیٹ فارم پر سنائی دی۔ تقریب میں شریک متعدد فنکاروں نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران کے خلاف ممکنہ جنگی ماحول پر تشویش کا اظہار کیا اور امن کا پیغام دیا۔
اس موقع پر ہسپانوی اداکار جاویئر بارڈم نے خاص طور پر توجہ حاصل کی جب وہ ریڈ کارپٹ پر ایک علامتی پن پہن کر آئے۔ یہ وہی پن تھی جو انہوں نے 2003 میں عراق جنگ کے خلاف احتجاج کے طور پر پہنی تھی۔ اداکار نے اس موقع پر واضح پیغام دیا کہ وہ کسی بھی نئی جنگ کے خلاف ہیں اور دنیا کو ایک بار پھر تباہ کن تنازع سے بچانا ضروری ہے۔
ایوارڈز کی تقسیم کے دوران اسٹیج پر گفتگو کرتے ہوئے جاویئر بارڈم نے جنگ کے خلاف کھل کر بات کی اور نو ٹو وار اور فری فلسطین کے نعرے لگائے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے وہی پن دوبارہ پہننے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ تاریخ خود کو دہراتی دکھائی دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے وہی پن پہنی ہے جو میں نے 2003 میں پہنی تھی جب عراق کے خلاف ایک غیر قانونی جنگ شروع کی گئی تھی۔ آج 23 برس بعد ہم ایک بار پھر اسی طرح کی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں ایک نئی جنگ کا خطرہ پیدا ہو چکا ہے۔
اداکار نے اپنے خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک نئی جنگ جھوٹ اور غلط معلومات کی بنیاد پر شروع کی جا رہی ہے، جس کے نتائج پوری دنیا کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے اور طاقت کے بجائے سفارتکاری اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے چاہئیں۔
جاویئر بارڈم نے اس موقع پر فلسطین کے حق میں بھی آواز اٹھائی۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ایک دوسری پن بھی پہن رکھی ہے جو فلسطین کی حمایت اور مزاحمت کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جنگ اور تشدد کے خلاف ہیں اور چاہتے ہیں کہ فلسطینی عوام کو آزادی اور انصاف ملے۔
تقریب میں موجود دیگر فنکاروں اور مہمانوں نے بھی جنگ کے خلاف پیغامات کو سراہا۔ بعض فنکاروں نے سوشل میڈیا پر بھی امن اور انسانی حقوق کے حق میں بیانات جاری کیے۔ مبصرین کے مطابق عالمی سطح کے ثقافتی ایونٹس پر اس طرح کے بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فنکار عالمی سیاسی اور انسانی مسائل پر بھی اپنی آواز بلند کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آسکرز جیسے بڑے عالمی پلیٹ فارم پر جنگ کے خلاف پیغام دینا اس بات کا اظہار ہے کہ دنیا بھر کے فنکار اور تخلیق کار امن، انصاف اور انسانی حقوق کے لیے اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہیں۔