کیا بابراعظم گلوکار بن گئے؟، سوشل میڈیا پر گانوں کی دھوم

کیا بابراعظم گلوکار بن گئے؟، سوشل میڈیا پر گانوں کی دھوم

پاکستان کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز بلے باز بابراعظم اور دیگر قومی کھلاڑیوں نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے بابراعظم کی آواز سے منسوب مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے گانوں پر انتہائی دلچسپ، ہلکے پھلکے اور مزاحیہ انداز میں اپنے تبصرے کیے ہیں۔

پاکستان کرکٹ کے آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کی گئی ایک منفرد ویڈیو نے اس وقت شائقینِ کرکٹ اور انٹرنیٹ صارفین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر رکھی ہے، جس میں قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کو ایک کمرے میں بٹھا کر انٹرنیٹ پر گردش کرنے والے ’اے آئی‘ سے تخلیق کیے گئے گانے سنائے گئے اور ان کے لائیو ردعمل (ری ایکشنز) کو ریکارڈ کیا گیا۔

ویڈیو میں جب خود بابراعظم کو ان کی نقلی آواز میں گایا گیا گانا سنایا گیا تو انہوں نے روایتی شرمیلی مسکراہٹ کے ساتھ اس پر تبصرہ کیا۔

تنہائی میں گانے گاتا ہوں، بابراعظم

بابراعظم نے ہنستے ہوئے اعتراف کیا کہ اگرچہ وہ گانا گانے کا شوق ضرور رکھتے ہیں اور تنہائی میں گاتے بھی ہیں، تاہم مذکورہ کلپ میں استعمال کی گئی آواز بالکل ان کی نہیں ہے اور ٹیکنالوجی نے اس میں کافی ردوبدل کیا ہے۔ سابق کپتان کا مسکراتے ہوئے کہنا تھا کہ ’میں گاتا تو ہوں لیکن یہ میری آواز نہیں ہے، البتہ ویڈیو میں جو میری تصویر لگی ہے وہ کافی اچھی لگ رہی ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں:بابراعظم کو بطور کپتان پہلی پی ایس ایل ٹرافی جیتنے کیلئے کتنے سال انتظار کرنا پڑا؟

دوسری جانب ٹیم کے شرارتی آل راؤنڈر سلمان علی آغا نے ہمیشہ کی طرح اپنے مخصوص مزاحیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے بابراعظم کی گلوکاری کی صلاحیتوں کا مذاق اڑایا۔

سلمان علی آغا کا کہنا تھا کہ وہ اس ’اے آئی‘ گانے سے بھی کہیں زیادہ کم معیار کے گانے سن چکے ہیں، اس لیے انہیں تو یہ گانا پھر بھی بہتر لگا اور ان کا نہیں خیال کہ بابراعظم اگر خود مائیک پر آئیں تو وہ اس مصنوعی گانے سے بہتر گلوکاری کر سکتے ہیں۔ سلمان کے اس تبصرے نے ویڈیو میں موجود دیگر کھلاڑیوں کو بھی ہنسنے پر مجبور کر دیا۔

اسی ویڈیو میں پاکستان کے اسٹار فاسٹ بولر نسیم شاہ نے اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کے موجودہ ٹرینڈز پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بابراعظم کی آواز میں بنائے گئے ’اے آئی‘ گانوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہر وقت گردش کر رہی ہوتی ہے۔

نسیم شاہ نے ایک دلچسپ راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ دورانِ سفر جب ٹیم بس یا جہاز میں ہوتی ہے، تو وہ اکثر اپنے موبائل پر ایسی ریلز اور ویڈیوز دیکھتے ہیں اور تفریح کے لیے انہیں باقاعدہ اسپیکر پر چلا کر پوری ٹیم کو سناتے ہیں۔

مزید پڑھیں:پی ایس ایل11: فائنل سے قبل پشاور زلمی کے کپتان بابراعظم کا اہم پریس کانفرنس

نسیم شاہ کا مزید کہنا تھا کہ بابراعظم کو اب مداحوں کی خواہش پر کم از کم ایک مرتبہ اپنی حقیقی آواز میں کوئی گانا ضرور ریکارڈ کرنا چاہیے، کیونکہ کرکٹ کے دیوانے انہیں صرف میدانِ کرکٹ کے چوکوں چھکوں تک محدود نہیں دیکھنا چاہتے بلکہ انہیں دیگر منفرد انداز میں بھی بے حد پسند کرتے ہیں۔

قومی کرکٹرز کے یہ دلچسپ، دوستانہ اور گپ شپ سے بھرپور تبصرے سوشل میڈیا صارفین میں جنگل کی آگ کی طرح مقبول ہو رہے ہیں۔ مداح اس ویڈیو پر بھرپور ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں، کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ بابراعظم کے چہرے کے تاثرات سے لگتا ہے کہ انہیں پکا یقین ہے کہ وہ اس کمپیوٹرائزڈ آواز سے کہیں بہتر گا سکتے ہیں، جبکہ دیگر مداحوں نے اس ویڈیو کو حالیہ دنوں میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے شیئر کی گئی سب سے بہترین اور تفریحی ویڈیو قرار دیا ہے۔

مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور کرکٹرز کے ’ڈیپ فیک‘ گانے

حالیہ سالوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ٹیکنالوجی نے دنیا بھر میں دھوم مچا رکھی ہے۔ جہاں اس ٹیکنالوجی کے بے شمار فائدے ہیں، وہاں وائس کلوننگ (آواز کی ہو بہو نقل) کے ذریعے مشہور شخصیات کی آوازوں میں گانے بنانا ایک نیا عالمی ٹرینڈ بن چکا ہے۔

پاکستان میں بھی ٹک ٹاک، انسٹاگرام ریلز اور یوٹیوب پر ایسے سینکڑوں اکاؤنٹس موجود ہیں جو بابراعظم، محمد رضوان، شاہین شاہ آفریدی اور یہاں تک کہ سیاسی رہنماؤں کی آوازوں کے ڈیٹا کو ’اے آئی ٹولز‘ میں ڈال کر ان سے مشہور بالی ووڈ اور لالی ووڈ کے گانے گنواتے ہیں۔

ماضی میں ان گانوں کو صرف مداحوں کی حد تک شیئر کیا جاتا تھا، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ خود پاکستان کرکٹ بورڈ کی میڈیا ٹیم نے اس ڈیجیٹل ٹرینڈ کو مثبت اور تفریحی رنگ دیتے ہوئے آفیشل لیول پر قبول کیا ہے اور کھلاڑیوں کے سامنے اسے پیش کر کے ڈریسنگ روم کے ماحول کو ہلکا پھلکا بنانے کی کوشش کی ہے۔

ٹیم کے اندرونی ماحول کی عکاسی

کرکٹ کے میدان میں دباؤ اور مسلسل میچز کے باعث کھلاڑی اکثر ذہنی تھکن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس قسم کی ویڈیوز یہ ثابت کرتی ہیں کہ کھلاڑیوں کے مابین گہرا دوستانہ تعلق موجود ہے۔

سلمان علی آغا کی جانب سے بابر کی ٹانگ کھینچنا اور نسیم شاہ کا بس میں اسپیکر پر گانے چلانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی ٹیم کا ڈریسنگ روم ماحول انتہائی خوشگوار اور زندہ دل ہے۔

برانڈ بابراعظم کی مقبولیت

یہ ویڈیو یہ بھی واضح کرتی ہے کہ بابراعظم صرف ایک کھلاڑی نہیں بلکہ ایک بہت بڑا ’برانڈ‘ بن چکے ہیں۔ انٹرنیٹ پر صرف انہی شخصیات کی آوازیں ’اے آئی‘ کے لیے استعمال کی جاتی ہیں جن کی مارکیٹ ویلیو اور فین فالونگ کروڑوں میں ہو۔ بابر اعظم کی تصویر اور آواز پر مبنی ویڈیوز پر لاکھوں ویوز آنا ان کی عالمی مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ٹیکنالوجی اور کاپی رائٹ کے چیلنجز

اگرچہ یہ ویڈیو تفریح کے زمرے میں آتی ہے، لیکن یہ ایک سنجیدہ بحث کو بھی جنم دیتی ہے کہ مستقبل میں مشہور شخصیات کی آوازوں کا بغیر اجازت استعمال کس قدر بڑھ سکتا ہے۔ بابراعظم کا یہ کہنا کہ ’آواز میری نہیں ہے‘ اس بات کی تصدیق ہے کہ ٹیکنالوجی اب کسی کی بھی شناخت کو کتنی آسانی سے کاپی کر سکتی ہے۔

Related Articles