گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے لیے آج ووٹنگ کا آغاز ہو چکا ہے، جہاں عوام اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کرتے ہوئے آئندہ حکومت کے قیام کا فیصلہ کریں گے پولنگ کا عمل صبح8بجے شروع ہوا اور بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔
الیکشن حکام کے مطابق صوبے بھر میں تقریباً 9 لاکھ 58 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز اپنے ووٹ کاسٹ کرنے کے اہل ہیں۔ ووٹنگ کے لیے مختلف اضلاع میں مجموعی طور پر 1,391 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں ان میں سے 349 کو حساس جبکہ 551 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔
اس انتخابی معرکے میں مجموعی طور پر 403 امیدوار حصہ لے رہے ہیں، جن میں اکثریت مرد امیدواروں کی ہے جبکہ چند خواتین امیدوار بھی میدان میں موجود ہیں۔
سیاسی جماعتوں کی جانب سے مختلف نشستوں پر امیدوار نامزد کیے گئے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن)، استحکام پاکستان پارٹی، مسلم لیگ، جمعیت علمائے اسلام (ف)، مجلس وحدت مسلمین، جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم سمیت متعدد جماعتیں انتخابی دوڑ میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں آزاد امیدوار بھی قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔
انتخابات کے پُرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ مقامی پولیس، گلگت بلتستان اسکاؤٹس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار مختلف پولنگ مقامات پر تعینات ہیں۔ انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کئی علاقوں میں فلیگ مارچ بھی کیے گئے۔
کئی حلقوں میں دلچسپ اور سخت مقابلوں کی توقع کی جا رہی ہے۔ گلگت، دیامر، غذر اور استور سمیت مختلف اضلاع میں نمایاں سیاسی شخصیات اور آزاد امیدوار ایک دوسرے کے مدِمقابل ہیں، جس کے باعث انتخابی نتائج پر خاصی دلچسپی پائی جا رہی ہے۔