ملازمین نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ50 ہزار روپے سے کم ماہانہ تنخواہ حاصل کرنے والے ملازمین کی تنخواہوں میں پچاس فیصد اضافہ کیا جائے، اسی طرح سفری، طبی اور رہائشی اخراجات کی مد میں دی جانے والی مراعات میں دو سو فیصد اضافے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے تاکہ ملازمین کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات سے کچھ حد تک تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
وفاقی بجٹ برائے2026 تا 2027 پیش کیے جانے کے موقع پر سرکاری ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں پارلیمان کے سامنے احتجاج کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اس سلسلے میں ملک کے مختلف علاقوں سے ملازمین کی آمد کا عمل شروع ہو چکا ہے، جبکہ بڑی تعداد میں ملازمین دارالحکومت میں جمع ہو رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ملازمین پہلے سیکریٹریٹ چوک پر اکٹھے ہوں گے اور بعد ازاں پارلیمان کی جانب مارچ کیا جائے گا۔
سرکاری ملازمین گزشتہ چند روز سے اپنے مطالبات کے حق میں مسلسل آواز بلند کر رہے ہیں اور وزارتِ خزانہ کے سامنے بھی احتجاجی سرگرمیاں جاری رہی ہیں۔
ملازمین کا مؤقف ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں سرکاری ملازمین کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے، اس لیے بجٹ میں ان کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں،آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، احتجاج جاری رکھا جائے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے10 مارچ 2025 کو ملازمین کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا، اس پر تاحال مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا، لہٰذا اس معاہدے کی تمام شقوں کو فوری طور پر نافذ کیا جائے۔
احتجاج کرنے والے ملازمین نے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ برسوں میں دی جانے والی تمام اضافی مالی رعایتوں کو بنیادی تنخواہ میں شامل کر کے نیا تنخواہی ڈھانچہ متعارف کرایا جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ موجودہ مہنگائی کے پیش نظر ملازمین کی آمدنی اور اخراجات میں توازن قائم رکھنا مشکل ہو چکا ہے، اس لیے تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ ناگزیر ہے۔
ملازمین نے یومیہ اجرت اور معاہداتی بنیادوں پر کام کرنے والے کارکنوں کو مستقل کرنے، دورانِ ملازمت وفات پانے والے ملازمین کے بچوں کے لیے ملازمتوں کی بحالی، نجکاری کی فہرست میں شامل اداروں کے معاملات کے لیے مشترکہ کمیٹیوں کے قیام اور کم از کم ماہانہ اجرت 50 ہزار روپے مقرر کرنے کا مطالبہ بھی دہرایا ہے۔