پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے اہم ریلیف پیکج کی منظوری دے دی ہے۔ حکومتی فیصلے کے مطابق صوبے میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں وہی اصلاحات نافذ کی جائیں گی جو وفاقی حکومت کے فنانس بل میں تجویز کی گئی ہیں اور نیا سیلری اسٹرکچر یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق وفاقی ماڈل کے تحت سابقہ ایڈہاک ریلیف الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کیا جائے گا۔ اس فیصلے کے تحت 2022 میں دیا گیا 15 فیصد اور 2025 میں دیا گیا 10 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس بنیادی تنخواہ میں شامل کر دیا جائے گا، جس کے بعد نیا بیسک پے اسٹرکچر تشکیل دیا جائے گا۔
نئے نظام کے مطابق ملازمین کو رننگ بیسک پے پر مزید 7 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس بھی دیا جائے گا جس سے مجموعی تنخواہوں میں بہتری آئے گی اور موجودہ سیلری اسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔
اسی طرح وفاقی حکومت نے گریڈ 1 سے گریڈ 22 تک کے تمام ملازمین کے لیے ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس 2026 بھی متعارف کرایا ہے جو بنیادی تنخواہ کے 15 فیصد کے برابر ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد مختلف محکموں کے ملازمین کے درمیان تنخواہوں کے فرق کو کم کرنا اور مالی توازن پیدا کرنا ہے۔ اس سے متعلق وفاق کے فیصلہ پر پنجاب حکومت بعد میں فیصلہ کریگی۔
حکومت کے مطابق ان اصلاحات کے بعد صوبائی سطح پر ایک نیا زیادہ منظم اور یکساں تنخواہی ڈھانچہ نافذ ہوگا جس سے ملازمین کو مہنگائی کے اثرات کے مقابلے میں بہتر ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
اسی کے ساتھ پنشنرز کے لیے بھی ریلیف پیکج شامل ہے جس کے تحت ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔