اسپین نے غیرملکیوں کے لیے قانونی حیثیت حاصل کرنے کا ایک بڑا موقع فراہم کیا تو درخواستوں کا سیلاب امڈ آیا، جہاں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواستوں کی تعداد 9 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔
اسپین حکومت کے امیگریشن پروگرام نے حکام کے اندازوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ حکومت نے گزشتہ ماہ تقریباً 5 لاکھ غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی رہائش دینے کے منصوبے کی منظوری دی تھی، تاہم درخواستوں کی تعداد توقع سے کہیں زیادہ سامنے آئی ہے۔
اسپین کی وزارت مہاجرت کے مطابق اب تک تقریباً 9 لاکھ افراد اس پروگرام کے تحت رجسٹریشن کروا چکے ہیں جبکہ درخواستوں کی تعداد میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ مہاجرین کی مدد کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پروگرام مکمل ہونے تک درخواست گزاروں کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے۔
حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو قانونی دائرے میں لانا اور انہیں باقاعدہ روزگار کی مارکیٹ کا حصہ بنانا ہے تاکہ وہ ملکی معیشت میں اپنا کردار قانونی طریقے سے ادا کر سکیں۔
اسپین کی حکومت کا مؤقف ہے کہ تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے سے نہ صرف ان کی مشکلات کم ہوں گی بلکہ ملک کو درکار افرادی قوت بھی دستیاب ہوگی۔ ماہرین کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں اسپین کی معاشی ترقی میں غیرملکی کارکنوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
تارکین وطن نے ہوٹلنگ، بزرگوں کی دیکھ بھال، زراعت اور دیگر شعبوں میں افرادی قوت کی کمی پوری کرنے کے ساتھ ساتھ سماجی تحفظ کے نظام میں بھی حصہ ڈالا ہے۔
یورپ میں جہاں کئی ممالک امیگریشن قوانین سخت کر رہے ہیں، وہیں اسپین نسبتاً نرم پالیسی اختیار کرتے ہوئے غیرملکیوں کو قانونی راستہ فراہم کر رہا ہے، جس کے باعث یہ پروگرام دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔