پہاڑوں کے بیچ چھپی پاکستان کی حیران کن ہوائی پٹی، یہاں طیارے کیسے اترتے ہیں

پہاڑوں کے بیچ چھپی پاکستان کی حیران کن ہوائی پٹی، یہاں طیارے کیسے اترتے ہیں

گلگت بلتستان کے ضلع استور کے قریب دریائے سندھ کے کنارے واقع بونجی ایئر اسٹرپ پاکستان کی منفرد ہوائی پٹیوں میں شمار ہوتی ہے۔ بلند پہاڑوں، گہری وادیوں اور دریائے سندھ کے درمیان اس کا محل وقوع اسے عام ایئر اسٹرپس سے بالکل مختلف بناتا ہے۔

پہاڑی علاقے میں موجود ہونے کی وجہ سے یہاں طیارے کی لینڈنگ اور ٹیک آف کے لیے پائلٹس کو جغرافیائی حالات کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے۔ دور سے دیکھنے پر یہ منظر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے طیارہ بلند پہاڑوں کے درمیان پرواز کرتے ہوئے اچانک ایک مختصر سے رن وے پر اتر رہا ہو۔

پہاڑوں اور دریائے سندھ کے درمیان رن وے

بونجی کا علاقہ بلند پہاڑوں اور دشوار گزار وادیوں سے گھرا ہوا ہے۔ ایئر اسٹرپ کے قریب دریائے سندھ بھی بہتا ہے، جس کی وجہ سے اس مقام کا قدرتی منظر انتہائی منفرد دکھائی دیتا ہے۔ یہ علاقہ قراقرم، ہندوکش اور ہمالیہ کے وسیع پہاڑی خطے کے قریب واقع ہے، جہاں موسم اور ہوائی حالات تیزی سے تبدیل ہوسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:78 سالہ دادی کا گیمنگ میں ایسا کارنامہ کہ گینیز ورلڈ ریکارڈ بنا ڈالا

پائلٹس کے لیے چیلنجنگ ماحول

پہاڑی علاقوں میں پرواز کے دوران تیز ہوائیں، کم حد نگاہ، بادل اور اچانک بدلتے موسم پائلٹس کے لیے مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔ اسی لیے ایسے مقامات پر لینڈنگ کے لیے پائلٹ کو رن وے کے محل وقوع، اردگرد موجود پہاڑوں اور ہوا کے رخ سمیت کئی عوامل پر مسلسل نظر رکھنا پڑتی ہے۔ بونجی ایئر اسٹرپ کا منفرد جغرافیائی محل وقوع اسے ہوا بازی کے شوقین افراد کے لیے خاص دلچسپی کا مقام بناتا ہے۔

شمالی پاکستان کا ایک منفرد فضائی منظر

پہاڑوں کے سائے میں موجود یہ ہوائی پٹی گلگت بلتستان کے دشوار گزار جغرافیے اور شمالی علاقوں میں فضائی رابطے کی اہمیت کی ایک دلچسپ مثال ہے۔ بونجی کے اردگرد پھیلے بلند پہاڑ، دریائے سندھ اور مختصر ایئر اسٹرپ مل کر ایسا منظر پیش کرتے ہیں جو پاکستان کے شمالی علاقوں کی قدرتی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ یہاں کی فضائی نقل و حرکت کے چیلنجز کو بھی نمایاں کرتا ہے۔

editor

Related Articles