بھارت پاکستان میں دہشتگردی اسپانسر کر رہا ہے؟ پاکستانی صحافی کے جواب پر بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر دم دبا کر بھاگ نکلے

بھارت پاکستان میں دہشتگردی اسپانسر کر رہا ہے؟ پاکستانی صحافی کے جواب پر بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر دم دبا کر بھاگ نکلے

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر پاکستانی صحافی کے ریاستی دہشتگردی پر تابڑ توڑ سوالات نے بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کو لاجواب کر دیا، جس پر وہ پریس کانفرنس ادھوری چھوڑ کر دم دبا کر بھاگ کھڑے ہوئے۔

ہزاروں پاکستانیوں کی شہادت اور اقوام متحدہ میں پیش شواہد پر پوچھے گئے سوالات کا جواب دینے کے بجائے بھارتی وزیر خارجہ میز پر ہاتھ مارتے ہوئے عجلت میں وہاں سے چل دیے۔

اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں اس وقت ایک غیر معمولی صورتحال پیدا ہو گئی جب ایک پاکستانی صحافی نے براہِ راست بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کو گھیر لیا۔

یہ بھی پڑھیں:ریاستی دہشتگردی پر بطور بھارتی وزیر خارجہ آپ کو شرم آنی چاہئے، پاکستانی صحافی کا بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر سے مکالمہ

صحافی نے انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں سوال داغا کہ کیا بھارتی حکومت پاکستان میں منظم انداز میں دہشتگردی کو اسپانسر کر رہی ہے؟

ان کا مزید پوچھنا تھا کہ پاکستان میں اب تک ہزاروں بے گناہ شہری بھارتی ریاستی دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، جن کے ناقابلِ تردید شواہد پاکستان اقوام متحدہ میں پیش کر چکا ہے، اس پر بھارت کا کیا مؤقف ہے؟ ان دو ٹوک اور سیدھے سوالات نے بھارتی وزیر خارجہ کے پسینے چھڑا دیے۔

پسپائی اور عالمی برادری کے سامنے بے نقاب چہرہ

بھارتی وزیر خارجہ، جو عموماً عالمی فورمز پر طویل تقاریر کے لیے جانے جاتے ہیں، ان تلخ حقائق پر مبنی سوالات کے سامنے مکمل طور پر گونگے دکھائی دیے۔

ان کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہ تھا کہ ہندوستان کی ریاستی سرپرستی میں اقلیتوں پر جو مظالم ڈھائے جا رہے ہیں اور سرحد پار دہشتگردی کا جو جال بچھایا گیا ہے، اس کا جواز کیا ہے۔

صحافی کے تابڑ توڑ سوالات سے بچنے کے لیے ایس جے شنکر نے خاموشی اختیار کی اور عجلت میں وہاں سے نکلنے ہی میں غنیمت جانی۔ اس واقعے نے عالمی برادری کی آنکھوں کے سامنے ہندوستان کے اس کثیر القومی یعنی ٹرانس نیشنل دہشتگردی کے ماڈل کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔

پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے عالمی برادری کی توجہ اس جانب مبذول کروا رہا ہے کہ بھارت اپنی خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے پاکستان کے مختلف حصوں میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔

سال 2020 اور 2021 میں پاکستان نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو باقاعدہ ڈوزیئرز دیے تھے جن میں آڈیو کالز، بینک ٹرانزیکشنز اور دیگر ثبوت شامل تھے جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ بھارت پاکستان میں کالعدم تنظیموں کی مالی اور لاجسٹک معاونت کر رہا ہے۔

ان شواہد کی موجودگی کے باوجود بھارتی قیادت ہمیشہ ان الزامات کو رد کرتی آئی ہے، لیکن جب ایک عالمی فورم پر براہِ راست شواہد کی بنیاد پر سوال کیا گیا تو ان کے پاس کوئی سفارتی یا اخلاقی جواب موجود نہیں تھا۔

سفارتی محاذ پر پیدا ہونے والی صورتحال

عالمی سطح کے اس اہم ترین فورم پر ایک اعلیٰ بھارتی سفارتکار کا یہ رویہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ جب حقائق اور ٹھوس شواہد پر بات کی جائے تو من گھڑت بیانیے ریت کی دیوار ثابت ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں:اقوام متحدہ میں او آئی سی رابطہ گروپ کا اجلاس، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی شدید مذمت، حقِ خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت کا اعلان

سفارتی سطح پر کسی بھی سوال کا جواب نہ دینا اور وہاں سے بچ نکلنا، دراصل خاموش اعتراف سمجھا جاتا ہے۔

حالیہ برسوں میں متعدد مغربی ممالک میں بھی بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے ماورائے عدالت قتل کے منصوبے بے نقاب ہو چکے ہیں، جس کے بعد اب عالمی فورمز پر ایسے سوالات کا اٹھنا اس بات کا اشارہ ہے کہ بھارت کا خود کو مظلوم ثابت کرنے والا پرانا بیانیہ اب اپنی موت آپ مر چکا ہے۔

حقائق پر مبنی ان سوالات کا سفارتی محاذ پر سامنا کرنا اب بھارتی قیادت کے لیے مسلسل مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

Related Articles