خیبرپختونخوا میں فوجداری مقدمے میں ملوث رکن اسمبلی کی گرفتاری سے قبل اسپیکر کی اجازت کی شرط پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اگر کوئی ایم پی اے کسی شخص کو قتل کردے تو کیا پولیس اسے گرفتار کرنے سے پہلے بھی اسپیکر کی اجازت کا انتظار کرے گی؟
محسن نقوی نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں خیبرپختونخوا میں ارکان صوبائی اسمبلی کی گرفتاری سے متعلق سامنے آنے والے طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اب صوبے میں اگر کسی ایم پی اے پر فوجداری جرم کا الزام ہو تو پولیس کو گرفتاری سے پہلے اسپیکر سے اجازت لینا ہوگی۔
وفاقی وزیر داخلہ نے طنزیہ انداز میں سوال کیا کہ اب آگے کیا ہوگا؟ اگر کوئی ایم پی اے کسی کو قتل کردے تو کیا پولیس پہلے اسپیکر کی اجازت کا انتظار کرے گی کہ اسے گرفتار کیا جائے؟
محسن نقوی نے اس صورتحال کو قانون کے سامنے مساوات کے تصور کے حوالے سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور اپنی پوسٹ کے اختتام پر طنزیہ انداز میں لکھا کہ اور یہ ریاستِ مدینہ ہے؟
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبرپختونخوا اسمبلی کے ارکان کے استحقاق اور گرفتاری سے متعلق قانونی طریقہ کار پر بحث جاری ہے۔ حالیہ مراسلے میں اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے پولیس کو متعلقہ قانون کی شق پر عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے جس کے تحت کسی رکن اسمبلی کی گرفتاری یا حراست سے قبل اسپیکر سے پیشگی اجازت لینے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
محسن نقوی کے بیان کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ فوجداری جرم کے الزام میں کسی منتخب نمائندے کے لیے گرفتاری کے عمل میں اضافی اجازت کی شرط کیا قانون کے یکساں اطلاق کے اصول سے مطابقت رکھتی ہے؟ ان کا مؤقف ہے کہ اگر اس اصول کو وسیع پیمانے پر نافذ کیا جائے تو سنگین جرائم کے معاملات میں بھی پولیس کارروائی سے پہلے اسپیکر کی اجازت کا سوال پیدا ہوگا۔
خیبرپختونخوا اسمبلی سے متعلق اس قانونی شق پر پہلے بھی سیاسی اور قانونی حلقوں میں بحث ہوتی رہی ہے۔ اس معاملے میں ایک طرف ارکان اسمبلی کے پارلیمانی استحقاق اور سیاسی انتقام یا غیر ضروری گرفتاریوں سے تحفظ کی دلیل دی جاتی ہے، جبکہ دوسری جانب ناقدین قانون کے یکساں نفاذ اور فوجداری مقدمات میں پولیس کے اختیارات کے حوالے سے سوالات اٹھا رہے ہیں۔
محسن نقوی کی تازہ پوسٹ نے اس بحث کو ایک مرتبہ پھر قومی سطح پر نمایاں کردیا ہے، تاہم اس شق کی حتمی قانونی تشریح اور اس کے عملی اطلاق کا فیصلہ متعلقہ قانونی و عدالتی فورمز ہی کرسکتے ہیں۔