فیلڈ مارشل عاصم منیر اور سعودی وزیر دفاع کی اہم ملاقات، بڑے معاملات پر تبادلہ خیال

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور سعودی وزیر دفاع کی اہم ملاقات، بڑے معاملات پر تبادلہ خیال

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کے درمیان اہم ملاقات ہوئی ہے جس میں مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے والے حملوں سعودی عرب میں شہری و اقتصادی تنصیبات کو لاحق خطرات اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت مشترکہ کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ انہوں نے پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی انہوں نے بتایا کہ ملاقات میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کے چیفس آف اسٹاف کے اجلاس کے نتائج کو سراہا گیا اور سعودی عرب کو درپیش سکیورٹی خطرات کا جائزہ لیا گیا۔

شہزادہ خالد بن سلمان کے مطابق ملاقات میں مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے والے حملوں کے ساتھ ساتھ سعودی عرب میں شہری آبادی اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں پر بھی گفتگو ہوئی سعودی وزیر دفاع نے کہا کہ دونوں جانب سے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ان حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سعودی عرب کو یمن سے ہونے والے میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافے کا سامنا ہے تازہ اطلاعات کے مطابق سعودی قیادت میں اتحاد نے ہفتے کے روز یمن سے سعودی عرب کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں اور دو ڈرونز کو روکنے کا دعویٰ کیا۔

یہ بھی پڑھیں:11 ماہ بعد بڑا فیصلہ، نیپرا نے بجلی صارفین کے دل جیت لیے

اس سے ایک روز قبل ریاض میں پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ عسکری حکام کا اہم اجلاس بھی ہوا جس میں تینوں ممالک کے فوجی سربراہان نے سعودی عرب کو درپیش سکیورٹی خطرات کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت دفاعی تعاون فوجی رابطہ کاری انٹیلی جنس تعاون اور دفاعی صلاحیتوں کو مزید مربوط بنانے کے امکانات پر بات چیت کی گئی۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو طے کیا تھا۔ معاہدے کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، جبکہ معاہدے کا مقصد مشترکہ دفاع، دفاعی تعاون اور علاقائی امن و استحکام کو مضبوط بنانا ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ مکہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، کسی ملک کے خلاف نہیں اور موجودہ دوطرفہ یا کثیرالجہتی معاہدوں کی جگہ نہیں لیتا۔ پاکستان نے معاہدے کے تحت دفاعی تعاون، تربیت، صلاحیتوں میں اضافے، بہترین تجربات کے تبادلے اور دفاعی ٹیکنالوجی و تحقیق میں تعاون کو اہم قرار دیا ہے۔

تازہ ملاقات اور تینوں ممالک کے عسکری سربراہان کے اجلاس کو مکہ دفاعی معاہدے کے عملی پہلوؤں کو آگے بڑھانے کی اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم سرکاری بیانات میں کسی مخصوص مشترکہ فوجی کارروائی، تعیناتی یا آپریشن کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ اجلاس میں بنیادی طور پر دفاعی تعاون، مشترکہ دفاعی تیاری اور سعودی عرب کی سلامتی کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے رابطہ کاری بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے

Qaisar Mirza
editor

Related Articles