پاکستان میں مہنگی بجلی کا نیا حل؟ سولر کے ساتھ بیٹری اسٹوریج پر توجہ

پاکستان میں مہنگی بجلی کا نیا حل؟ سولر کے ساتھ بیٹری اسٹوریج پر توجہ

پاکستان میں بجلی کے بڑھتے اخراجات اور سولر پینلز کی قیمتوں میں کمی کے باعث گھروں، کاروباری مراکز اور صنعتی اداروں کی چھتوں پر سولر سسٹمز عام ہوتے جا رہے ہیں۔

سولر توانائی نے صارفین کو بجلی کے بل کم کرنے اور گرڈ پر انحصار گھٹانے کا ایک راستہ ضرور دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک اہم سوال بھی سامنے آیا ہے، سورج غروب ہونے کے بعد بجلی کہاں سے آئے گی؟ یہی وہ مقام ہے جہاں بیٹری اسٹوریج اہم ہوجاتی ہے۔

سولر بجلی بناتا ہے، بیٹری اسے محفوظ رکھتی ہے

سولر پینلز دن کے وقت سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کرتے ہیں۔ اگر اس دوران گھر کی ضرورت سے زیادہ بجلی بن رہی ہو تو اسے بیٹری میں محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ شام کے وقت جب سورج موجود نہیں ہوتا، یہی ذخیرہ شدہ بجلی گھر کی ضروریات پوری کرنے میں استعمال کی جاسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خلاء میں زمین سے بھی بڑا ہیرا؟ سائنسدانوں نے حیران کن راز بتا دیا

گھروں میں ایئر کنڈیشنر، پنکھے، لائٹس، ٹی وی، وائی فائی، لیپ ٹاپ اور دیگر آلات شام کے بعد بھی چلتے رہتے ہیں۔ ایسے میں صرف سولر پینلز پر انحصار کرنے کے بجائے بیٹری اسٹوریج اضافی سہولت فراہم کرسکتی ہے۔ سادہ الفاظ میں، سولر بجلی پیدا کرتا ہے جبکہ بیٹری یہ طے کرنے میں مدد دیتی ہے کہ اس بجلی کو کب استعمال کرنا ہے۔

پاکستان میں سولر کے بعد اگلا مرحلہ کیا ہے؟

پاکستان میں سولر سسٹمز کی مقبولیت کے ابتدائی مرحلے میں بنیادی توجہ زیادہ سے زیادہ بجلی پیدا کرنے اور گرڈ سے استعمال کم کرنے پر تھی۔ اب توجہ آہستہ آہستہ ایک دوسرے سوال کی جانب بڑھ رہی ہے بیٹری اسٹوریج اس سوال کا ایک ممکنہ جواب ہے، خاص طور پر شام کے اوقات، زیادہ بجلی استعمال ہونے کے وقت اور گرڈ کی بندش کے دوران۔

ہر بیٹری ایک جیسی نہیں ہوتی

پاکستان میں کئی برس تک سولر اور بیک اپ سسٹمز میں لیڈ ایسڈ بیٹریاں عام استعمال ہوتی رہی ہیں۔ تاہم اب لیتھیم ٹیکنالوجی بھی تیزی سے توجہ حاصل کر رہی ہے۔ بیٹری خریدتے وقت صرف اس کی گنجائش دیکھنا کافی نہیں۔ بیٹری میں استعمال ہونے والے سیلز، چارج اور ڈسچارج سائیکل، متوقع عمر، وارنٹی اور سروس بھی اہم عوامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:آئی فون 18 پرو کے کیمرے میں سبز دھبے کیوں؟ اصل وجہ سامنے آگئی

مثال کے طور پر نِمبِس کی لیتھیم آئن بیٹریاں کی موجودہ بیٹری رینج میں لیتھیم آئن ٹیکنالوجی اور Tier 1 سیلز استعمال کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس کی بعض اسٹوریج مصنوعات میں سائیکل لائف 10 ہزار سائیکل کے قریب ہے۔ تاہم صارفین کے لیے ضروری ہے کہ کسی بھی بیٹری کی خریداری سے پہلے کمپنی کی وارنٹی، اصل تکنیکی تفصیلات، مقامی سروس اور قیمت کا جائزہ ضرور لیں۔

بیٹری صرف لوڈشیڈنگ کا بیک اپ نہیں

بیٹری اسٹوریج کا مقصد صرف بجلی بند ہونے کے وقت بیک اپ فراہم کرنا نہیں ہے۔ دن کے وقت سولر سے پیدا ہونے والی اضافی بجلی کو محفوظ کرکے شام کے وقت استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح گھر اپنے پیدا کردہ توانائی کے زیادہ حصے کو براہ راست استعمال کرسکتا ہے۔ یہ نظام صارفین کو بجلی کے استعمال کے وقت پر زیادہ اختیار بھی دے سکتا ہے۔

پاکستان میں سولر کا مستقبل، سولر کے ساتھ اسٹوریج

پاکستان میں گھریلو اور کاروباری سطح پر سولر کا استعمال بڑھنے کے ساتھ اب بیٹری اسٹوریج بھی توانائی کے نظام کا اہم حصہ بنتا جارہا ہے۔ مستقبل کا سولر سسٹم صرف زیادہ بجلی پیدا کرنے تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس میں یہ بھی اہم ہوگا کہ پیدا ہونے والی بجلی کو کب، کتنی مقدار میں اور کتنے عرصے تک استعمال کیا جاسکتا ہے۔ سولر پینلز گھر کو اپنی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت دیتے ہیں، جبکہ بیٹری اسٹوریج اس توانائی کو ضرورت کے مطابق استعمال کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

editor

Related Articles