ہماری کہکشاں میں ایک ایسا دیوہیکل خلائی جرم موجود ہے جو ہیرے جیسا دکھائی دیتا ہے اور سائنسدانوں کے مطابق اس کا حجم زمین سے بھی بڑا ہوسکتا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کوئی عام سیارچہ نہیں بلکہ ایک قدیم سفید بونے ستارے کا باقی ماندہ مرکز ہوسکتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ ستارہ اربوں سال پہلے اپنی زندگی کے آخری مراحل میں داخل ہوا اور وقت کے ساتھ ٹھنڈا ہوتا گیا۔
اس کے اندر موجود کاربن سے بھرپور مادہ انتہائی طویل عرصے کے دوران کرسٹل کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ اسی عمل کے نتیجے میں ستارے کا اندرونی حصہ ایک بہت بڑے ہیرے جیسے کرسٹل میں تبدیل ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
یہ خلائی جرم اس بات کی ایک دلچسپ مثال ہے کہ کائنات میں ایسے عجیب و غریب مظاہر بھی موجود ہیں جن کا تصور زمین پر رہتے ہوئے مشکل محسوس ہوتا ہے۔ ایک مردہ ستارے کا انتہائی طویل عرصے کے دوران ٹھنڈا ہوکر ہیرے جیسے کرسٹل میں تبدیل ہونا کائنات کے حیران کن اور پیچیدہ عمل کی جھلک پیش کرتا ہے۔