پانی روکا تو پاکستان خاموش نہیں رہے گا، مصدق ملک کابھارت کو دوٹوک پیغام

پانی روکا تو پاکستان خاموش نہیں رہے گا، مصدق ملک کابھارت کو دوٹوک پیغام

 وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کو ناقابل قبول سمجھتا ہے اور پانی کے قدرتی بہاؤ کو روکنے یا اس میں مداخلت کرنے کی کوئی بھی کارروائی پاکستان کے نزدیک جنگی اقدام کے مترادف ہوگی۔

سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک یورپ کے معروف تھنک ٹینک ’’سینٹر فار یورپین پالیسی اسٹڈیز‘‘ کی دعوت پر برسلز پہنچے ہیں جہاں وہ سرحد پار آبی وسائل، موسمیاتی تبدیلی اور علاقائی استحکام سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ کانفرنس میں دنیا بھر سے ماہرین ماحولیات، سفارت کار، پالیسی ساز اور آبی وسائل کے ماہرین شریک ہیں جبکہ پاکستان کی جانب سے آبی حقوق، ماحولیاتی انصاف اور علاقائی امن کے حوالے سے مؤقف پیش کیا جا رہا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :مون سون کا آخری سپیل ، وفاقی وزیر مصدق ملک نے خبردار کردیا

برسلز میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان دنیا کے سامنے امن، مکالمے اور باہمی احترام کا پیغام لے کر آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سیکیورٹی پرووائیڈر نہیں بلکہ ’’پیس پرووائیڈر‘‘ بننا چاہتا ہے اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ محض پانی کی تقسیم کا معاہدہ نہیں بلکہ یہ بین الاقوامی قوانین، عالمی معاہدوں کے احترام اور زیریں دریا بردار ممالک کے حقوق کا ایک اہم امتحان ہے۔ پانی کے بہاؤ میں کسی قسم کی رکاوٹ پاکستان کی خوراکی سلامتی، معیشت اور لاکھوں خاندانوں کے روزگار پر براہ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :چین سمیت دنیا کی گہری نظر، سندھ طاس معاہدہ تنازعہ بالائی ممالک کیلئے انتباہ بن گیا

ڈاکٹر مصدق ملک نے بتایا کہ پاکستان کی تقریباً 40 فیصد آبادی کا روزگار زرعی شعبے سے وابستہ ہے جبکہ ملک کی 80 فیصد زراعت دریائے سندھ کے نظام آب پر انحصار کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی بڑی تعداد بھی زرعی معیشت کا حصہ ہے، اس لیے آبی وسائل میں مداخلت سماجی اور معاشی استحکام کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔

وفاقی وزیر نے زور دیا کہ بین الاقوامی معاہدوں کو یکطرفہ طور پر معطل کرنا قواعد پر مبنی عالمی نظام کو کمزور کرتا ہے جبکہ قدرتی وسائل کو ہتھیار بنانا ماحولیات، موسمیاتی نظام اور عالمی استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر قانونی، سفارتی اور بین الاقوامی فورم پر آواز بلند کرتا رہے گا۔

editor

Related Articles