ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز جنگ سے پہلے کی صورتحال پر واپس نہیں جائے گی اور مستقبل میں اس اہم آبی گزرگاہ کے انتظام اور استعمال کے حوالے سے نئی پالیسی اپنائی جائے گی۔
اپنے ایک بیان میں باقر قالیباف نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کا مؤقف بین الاقوامی قوانین یا عالمی بحری جہاز رانی کے اصولوں کے خلاف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران بین الاقوامی ضوابط کا احترام کرتا ہے اور تجارتی و بحری سرگرمیوں کو قانونی فریم ورک کے تحت جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں فراہم کی جانے والی مختلف خدمات کے لیے ایران فیس وصول کرے گا۔ ان کے مطابق یہ اقدام بحری خدمات کے انتظام، سکیورٹی اور دیگر سہولیات کی فراہمی کے تناظر میں کیا جائے گا۔
باقر قالیباف نے ایران کی اقتصادی بحالی اور ترقی سے متعلق بھی اہم انکشافات کیے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران میں سرمایہ کاری کے لیے 300 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں جو ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے اور مختلف ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس خطیر رقم کا ایک حصہ تعمیرِ نو کے منصوبوں کے لیے مخصوص کیا گیا ہے جبکہ باقی سرمایہ کاری مختلف شعبوں میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری پر خرچ کی جائے گی۔
ایرانی اسپیکر کے بیان کو خطے کی مستقبل کی معاشی اور بحری پالیسیوں کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔