امریکا ایران معاہدہ، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

امریکا ایران معاہدہ، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

امریکا اور ایران کے درمیان عبوری معاہدہ طے پانے کے بعد عالمی تیل مارکیٹ میں نمایاں نرمی دیکھنے میں آئی ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت دیگر درآمدی ممالک پر بھی مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔

معاہدے کے نتیجے میں ایران کے ساتھ کشیدگی میں کمی، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی اور ایرانی تیل کی عالمی منڈی تک رسائی آسان ہونے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں،  انہی توقعات کے باعث جمعرات کو خام تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

کاروباری سرگرمیوں کے آغاز پر برینٹ خام تیل ایک فیصد سے زائد کمی کے بعد 78 ڈالر 66 سینٹ فی بیرل پر آ گیا، جبکہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی بھی تقریباً ڈیڑھ فیصد کمی کے ساتھ 75 ڈالر 81 سینٹ فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ کرتا رہا۔

مارکیٹ ماہرین کے مطابق سرمایہ کار یہ اندازہ لگا رہے ہیں کہ ایرانی تیل جلد عالمی سپلائی کا حصہ بن سکتا ہے، جس سے مجموعی فراہمی میں اضافہ اور قیمتوں پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب پاکستان میں گزشتہ چند ماہ کے دوران عالمی قیمتوں میں اضافے کے اثرات مقامی سطح پر بھی دیکھے گئے، جہاں پیٹرولیم مصنوعات مسلسل مہنگی ہوتی رہی ، تاہم اب بین الاقوامی مارکیٹ میں کمی کے رجحان کے بعد عوام کو قیمتوں میں خاطر خواہ ریلیف ملنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :خام تیل کی قیمتیں ساڑھے تین سال کی کم ترین سطح پر آگئیں

توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل موجودہ سطح کے قریب برقرار رہتا ہے اور روپے کی قدر میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ نہیں آتا تو پیٹرول کی قیمت میں 30 سے 40 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 35 سے 50 روپے فی لیٹر تک کمی ممکن ہو سکتی ہے۔

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حکومت ٹیکسوں اور پٹرولیم لیوی میں مناسب ردوبدل کرکے عوام کو اس سے بھی زیادہ ریلیف فراہم کر سکتی ہے، جس سے کمی کی مجموعی شرح 50 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق نئی قیمتوں کے تعین کے لیے اوگرا اپنی سفارشات وزارت خزانہ کو بھجوائے گا، جس کے بعد وزیراعظم کی منظوری سے جمعہ کی رات پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان متوقع ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام کو ملنے والے ممکنہ ریلیف کا حتمی انحصار اوگرا کی سفارشات، ڈالر کی قدر، درآمدی اخراجات اور حکومتی مالیاتی پالیسی پر ہوگا، تاہم موجودہ صورتحال میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے امکانات مضبوط دکھائی دے رہے ہیں۔

editor

Related Articles