عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں سے متعلق بڑی خبر آگئی

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں سے متعلق بڑی خبر آگئی

عالمی بلین مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں 1 فیصد سے زیادہ کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد گزشتہ کاروباری سیشن کے دوران ہونے والے بڑے نقصان کی جزوی تلافی ہو گئی ہے۔

جمعرات کو امریکی مرکزی بینک (فیڈرل ریزرو) کی جانب سے سخت مالیاتی پالیسی اور شرحِ سود برقرار رکھنے یا بڑھانے کے واشگاف اشاروں کے باوجود محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونے کی طلب میں اچانک بہتری دیکھی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:گولڈ مارکیٹ میں یوٹرن،سونے کی قیمتیں دوبارہ اوپر چلی گئیں،فی تولہ قیمت میں بڑا اضافہ

کاروبار کے دوران اسپاٹ گولڈ (فوری فروخت) کی قیمت 1.3 فیصد بڑھ کر 4311.83 ڈالر فی اونس پر پہنچ گئی، جبکہ اس کے برعکس بدھ کو سونے کی قیمتوں میں 1.7 فیصد کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی تھی۔

سرمایہ کار اس وقت امریکی فیڈ کی جانب سے آئندہ سال شرحِ سود میں ممکنہ اضافے کے بیانات کے بعد انتہائی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب، امریکی گولڈ فیوچرز (اگست ڈیلیوری) کی قیمت 1.1 فیصد کمی کے ساتھ 4332.50 ڈالر پر بند ہوئی۔

پاک، سعودی ثالثی اور ایران امریکا عارضی معاہدے کے اثرات

معروف مالیاتی ادارے اوآنڈا کے سینیئر مارکیٹ تجزیہ کار کیلون وونگ کے مطابق سونے کی قیمت میں حالیہ ریکوری کی بنیادی وجہ مارکیٹ میں شارٹ پوزیشنز (قلیل مدتی سودوں) کا بند ہونا اور مشرقِ وسطیٰ سے آنے والی مثبت سفارتی پیش رفت ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے عارضی امن معاہدے کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں واضح کمی دیکھی گئی ہے، جس نے افراطِ زر (مہنگائی) کے عالمی خدشات کو کسی حد تک کم کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں:سونے کی قیمتیں گریں گی یا بڑھیں گی؟ دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’گولڈمین ساکس‘ نے حیران کن پیشگوئی کر دی

اس اسٹریٹجک معاہدے کے تحت جنگ بندی میں مزید 60 دن کی توسیع کی گئی ہے تاکہ فریقین کے مابین حتمی اور مستقل امن معاہدے پر بات چیت کا سلسلہ بغیر کسی تعطل کے جاری رہ سکے۔

شرحِ سود میں اضافے کے امکانات اور دیگر قیمتی دھاتوں کی صورتحال

مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل کی بلند قیمتیں عام طور پر مہنگائی کو ہوا دیتی ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے مرکزی بینک شرحِ سود بڑھاتے ہیں اور اس کے نتیجے میں سونا دباؤ میں آ جاتا ہے کیونکہ سونے پر کوئی مقررہ منافع حاصل نہیں ہوتا۔

اب مارکیٹ میں یہ توقعات بہت تیزی سے بڑھ رہی ہیں کہ امریکی فیڈ اسی سال شرحِ سود میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔ فیڈرل ریزرو کے 19 میں سے 9 پالیسی سازوں نے اس سخت امکان کی نشاندہی کر دی ہے۔ سی ایم ای فیڈ واچ ٹول کے مطابق آنے والے دسمبر میں شرحِ سود میں اضافے کے امکانات اب 85 فیصد کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکے ہیں۔

سونے کے ساتھ ساتھ عالمی مارکیٹ میں دیگر قیمتی دھاتوں کے نرخ بھی تیز رہے، جن کی تفصیل درج ذیل ہے

قیمتی دھات

قیمت فی اونس (ڈالر)

روزانہ کا اضافہ (فیصد)

سونا (اسپاٹ گولڈ)

4311.83 ڈالر

1.3 فیصد

چاندی (سلور)

69.03 ڈالر

1.5 فیصد

پلاٹینم

1759.77 ڈالر

1.3 فیصد

پیلیڈیم

1330.26 ڈالر

1.4 فیصد

خام تیل کا بحران اور سونے کی بحیثیت محفوظ سرمایہ کاری حیثیت

عالمی معیشت گزشتہ کئی مہینوں سے جیو-پولیٹیکل تنازعات اور سپلائی چین کی معطلی کے باعث افراطِ زر کے دباؤ میں تھی۔ خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے مابین بڑھتے ہوئے تناؤ نے خام تیل کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا تھا، جس نے دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کو سود کی شرح بلند رکھنے پر مجبور کیا۔

یہ بھی پڑھیں:عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں قابو سے باہر ، پاکستان میں فی تولہ قیمت کہاں تک جاسکتی ہے ؟

سونا ہمیشہ سے افراطِ زر کے خلاف ایک بہترین دفاع سمجھا جاتا ہے، لیکن جب شرحِ سود بہت زیادہ بڑھ جائے تو سرمایہ کار بانڈز اور بینک ڈپازٹس کی طرف رخ کرتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں ایران امریکہ عارضی ڈیل نے جہاں تیل کو سستا کیا، وہاں سونے کو دوبارہ مستحکم ہونے کا ایک نادر موقع فراہم کر دیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کی سفارت کاری اور کموڈٹی مارکیٹ

امریکا اور ایران کے درمیان 60 روزہ توسیع کا معاہدہ صرف سیاسی نہیں بلکہ خالصتاً معاشی بریک تھرو ہے۔ اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی مہنگائی کے دباؤ کو کم کرے گی، جس سے بالآخر عالمی اسٹاک مارکیٹس اور قیمتی دھاتوں کو طویل مدتی استحکام مل سکتا ہے۔

دسمبر کے 85 فیصد امکانات کا نفسیاتی اثر

سی ایم ای فیڈ واچ کا ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ نے دسمبر میں شرحِ سود میں اضافے کو پہلے ہی اپنے کھاتوں میں شامل کر لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 85 فیصد کے اس بھاری امکان کے باوجود جمعرات کو سونے کی قیمت گرنے کے بجائے اوپر گئی، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ سرمایہ کار اب فیڈ کے بیانات کے عادی ہو چکے ہیں اور ان کی توجہ حقیقی جیو-پولیٹیکل سگنلز پر ہے۔

روایتی دھاتوں کا اجتماعی ابھار

چاندی، پلاٹینم اور پیلیڈیم میں سونے کے ساتھ ساتھ 1.3 سے 1.5 فیصد کا اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ صنعتی اور مینوفیکچرنگ سیکٹر میں ان دھاتوں کی طلب دوبارہ بڑھ رہی ہے، جو عالمی معاشی سرگرمیوں کی بحالی کا ایک مثبت اشارہ ہو سکتا ہے۔

Related Articles