وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی زیرِ صدارت اسلام آباد میں ہونے والے گیلنٹری ایوارڈز کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں وطن پر جانیں نچھاور کرنے والے شہدا اور غازیوں سمیت مختلف کیٹیگریز میں 78 افراد کے لیے سول اعزازات کی منظوری دے دی گئی ہے۔
وزیرداخلہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ شجاعت کے ان درخشندہ ستاروں کی حوصلہ افزائی ہماری قومی ذمہ داری ہے۔
گیلنٹری ایوارڈز کی خصوصی کمیٹی کا اہم اجلاس
اسلام آباد میں وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی زیرِ صدارت سول اعزازات کے حوالے سے قائم کردہ خصوصی کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔
اس اجلاس میں ملک کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا، فرائض کی ادائیگی کے دوران غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کرنے والے غازیوں اور مختلف شعبوں میں شجاعت کے جوہر دکھانے والے افراد کے ناموں پر غور کیا گیا۔
تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد کمیٹی نے مجموعی طور پر 78 افراد کے لیے سول اعزازات کی منظوری دیدی۔
محسن نقوی کا خراجِ تحسین اور قومی عزم
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا کہ مشکل ترین حالات میں بھی اپنے وطنِ عزیز کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے اور غیر معمولی شجاعت کا مظاہرہ کرنے والے ہمارے ہیروز قوم کا مان ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے فرض شناس اور بہادر افراد کی حوصلہ افزائی کرنا ریاست اور پوری قوم کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ہم جس فضا میں سانس لے رہے ہیں، یہ انھی جانثاروں کے خون کی مرہونِ منت ہے۔
شہدا اور غازیوں کی لازوال قربانیاں
وزیرداخلہ نے مزید کہا کہ وطنِ عزیز پاکستان شہداء اور غازیوں کی لازوال قربانیوں کا ہمیشہ احسان مند رہے گا کیونکہ ان کی دی گئی قربانیاں ہی اس ملک کی بقا اور سلامتی کی ضمانت ہیں۔
یہ اعزازات نہ صرف ان شخصیات کی جرأت کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ذریعہ ہیں بلکہ یہ آنے والی نسلوں کے دلوں میں حب الوطنی کے جذبے کو مزید اجاگر کرنے کا بھی ایک اہم قدم ہیں۔
پاکستان میں ہر سال یومِ آزادی یا یومِ پاکستان کے موقع پر ان سویلینز، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور شہدا کو اعلیٰ ترین سول و عسکری اعزازات سے نوازا جاتا ہے جنہوں نے ملک و قوم کی حفاظت، امن کے قیام اور بحران کی صورتحال میں اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا ہو۔
گیلنٹری ایوارڈز کے لیے ایسی کمیٹیوں کا قیام اسی سلسلے کی کڑی ہے تاکہ میرٹ پر پورا اترنے والے بہادر سپوتوں کی خدمات کو سرکارِ سطح پر تسلیم کیا جا سکے۔
محسن نقوی کی جانب سے 78 افراد کے لیے سول اعزازات کی منظوری کا یہ فیصلہ انتہائی بروقت اور حوصلہ افزا ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب ملک کو اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے، ریاست کی طرف سے اپنے ہیروز اور شہدا کی قربانیوں کا اس طرح اعتراف کرنا نہ صرف ان کے لواحقین کے لیے تسلی کا باعث بنتا ہے بلکہ سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کے مورال کو بھی بلند کرتا ہے۔ اس اقدام سے قوم میں یہ مضبوط پیغام جاتا ہے کہ ملک کی خاطر قربانی دینے والوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جاتا۔