پی آئی اے ملازمین کے لیے بڑی خوشخبری، نجی کاری کے بعد پہلا پرفارمنس بونس منظور

پی آئی اے ملازمین کے لیے بڑی خوشخبری، نجی کاری کے بعد پہلا پرفارمنس بونس منظور

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز نے نجی انتظام میں منتقلی کے بعد پہلی بار ملازمین کے لیے پرفارمنس بونس کی منظوری دے دی ہے۔

بورڈ آف ڈائریکٹرز کے 102ویں اجلاس میں منظور کیے گئے اس فیصلے کے تحت ملازمین کو ایک ماہ کی بنیادی تنخواہ بطور بونس دی جائے گی۔

نجی انتظام کے بعد پہلا بڑا فیصلہ اور بورڈ اجلاس

پی آئی اے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا 102واں اجلاس جمعہ کے روز منعقد ہوا، جس میں تاریخی فیصلے کرتے ہوئے ادارے کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز کیا گیا۔

نجی انتظام سنبھالنے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ملازمین کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے مالی مراعات دینے کا باضابطہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پی آئی اے کنسورشیم کو انتظامی کنٹرول کی منتقلی کے ساتھ قومی ایئرلائن کی بحالی کا ایک نیا باب شروع ہو گیا ہے، شہباز شریف

ترجمان کے مطابق بورڈ نے متفقہ طور پر تمام اہل ملازمین کے لیے ایک ماہ کی بنیادی تنخواہ کے برابر پرفارمنس بونس کی منظوری دی ہے، جو ادارے کے اندر ایک مثبت کاروباری کلچر کے فروغ کی جانب اہم قدم ہے۔

ملازمین کی حوصلہ افزائی اور آئندہ کے آپریشنل اہداف

پی آئی اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ نئی قیادت کی انسانی سرمائے پر توجہ اور اس کی وسیع تر تبدیلی اور ترقیاتی حکمت عملی کا واضح عکاس ہے۔

انتظامیہ کا مقصد ملازمین کی روزمرہ کی لگن کو سراہنا اور آنے والے اہم آپریشنل سنگ میلز، بند روٹس کی بحالی اور مسافروں کو فراہم کی جانے والی خدمات میں بہتری سے قبل ٹیموں کا حوصلہ بلند کرنا ہے۔

چیئرمین بورڈ کا کہنا ہے کہ محنتی ورک فورس ہی ایئرلائن کی بحالی کی اصل ریڑھ کی ہڈی ہے، اور ملازمین کی بہبود کو ترجیح بنا کر ہی ایک بہترین اور منافع بخش ادارہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

کارپوریٹ گروتھ اور سروس کی بہتری کا عزم

ادارے کی نئی قیادت مسافروں کو بہترین فضائی سفر کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف ملازمین کی کارکردگی میں نکھار آئے گا بلکہ آپریشنل اعتبار سے ایئرلائن کی ساکھ بھی بہتر ہوگی۔

طویل المدتی کارپوریٹ گروتھ کے حصول کے لیے احتساب، شفافیت اور بہترین کارکردگی کا یہ امتزاج پی آئی اے کو دوبارہ اس کے پرانے مقام پر پہنچانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

قومی فضائی کمپنی (پی آئی اے) طویل عرصے سے مالی خسارے اور انتظامی بحران کا شکار چلی آ رہی تھی، جس کی وجہ سے ادارے کی نجکاری کا فیصلہ کیا گیا۔

مزید پڑھیں:پی آئی اے، ائیر فرانس برٹش ائیر ویز سمیت متعدد بین الاقوامی ائیر لائنز نے مشرق وسطیٰ کے لئے پروازیں منسوخ کردی

حکومتِ پاکستان کی جانب سے اس طویل عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے بعد اب ایئرلائن کو نجی انتظام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

 نجی مینجمنٹ کے آتے ہی ادارے کی تشکیلِ نو، خسارے پر قابو پانے اور ملازمین کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے نئے اصلاحاتی اقدامات کا آغاز کیا گیا ہے تاکہ ایئرلائن کو دوبارہ منافع بخش بنایا جا سکے۔

نجی کاری کے فوراً بعد ملازمین کو پرفارمنس بونس دینا ایک بہترین نفسیاتی اور انتظامی چال ہے۔ ماضی میں پی آئی اے کے ملازمین عدم تحفظ اور تنخواہوں کے مسائل کا شکار رہے ہیں، جس سے ادارے کی کارکردگی متاثر ہوئی۔

نئی انتظامیہ نے ملازمین کو ساتھ لے کر چلنے کی جو حکمت عملی اپنائی ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ انسانی سرمائے کی اہمیت کو سمجھتی ہے۔ اگر ملازمین کا مورال بلند رہے گا تو آپریشنل بہتری اور روٹس کی بحالی کے اہداف حاصل کرنا آسان ہو جائے گا۔

Related Articles