پاکستان کی اوپن کرنسی مارکیٹ میں حالیہ دنوں ایرانی ریال کی خریداری میں اچانک اور نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کی بنیادی وجہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ امن معاہدے سے متعلق گردش کرنے والی اطلاعات کو قرار دیا جا رہا ہے۔
پانچ روز میں خریداری کا نیا رجحان
کرنسی مارکیٹ ذرائع کے مطابق گزشتہ پانچ روز کے دوران شہریوں کی بڑی تعداد نے ایرانی ریال خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی، جس کے نتیجے میں اس کرنسی کی طلب میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی۔
ریال کی قیمت تقریباً دوگنا ہو گئی
بڑھتی ہوئی طلب کے باعث ایرانی ریال کی قدر میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، مارکیٹ اطلاعات کے مطابق مختصر مدت میں ریال کی قیمت تقریباً 100 فیصد بڑھ گئی اور اس کی مالیت دوگنی ہو گئی۔
متوسط طبقہ بھی سرمایہ کاری کی دوڑ میں شامل
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان کے مطابق زیادہ تر خریداری متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں نے کی جو مستقبل میں مزید منافع کی توقع پر ریال خرید رہے ہیں۔
3کھرب روپے مالیت کے ریال خریدے گئے
ملک بوستان نے بتایا کہ گزشتہ چند روز کے دوران پاکستانی خریداروں نے مجموعی طور پر تقریباً 3 کھرب روپے مالیت کے ایرانی ریال خریدے، جس نے مارکیٹ میں نمایاں سرگرمی پیدا کی۔
ایک کروڑ ریال کی قیمت میں بڑا فرق
ان کے مطابق ایک کروڑ ایرانی ریال جو چند روز قبل تقریباً 2ہزار پاکستانی روپے میں دستیاب تھے، اب ان کی قیمت بڑھ کر تقریباً 4ہزار پاکستانی روپے تک پہنچ چکی ہے۔
قیاس آرائیوں نے مارکیٹ کو گرم کر دیا
ماہرین کا کہنا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ممکنہ پیش رفت سے متعلق خبروں نے کرنسی مارکیٹ میں قیاس آرائیوں کو ہوا دی، جس کے نتیجے میں ریال کی طلب مزید بڑھ گئی۔
لائسنس یافتہ اداروں سے لین دین کی ہدایت
ملک بوستان نے عوام کو مشورہ دیا کہ کرنسی کی خرید و فروخت صرف لائسنس یافتہ ایکسچینج کمپنیوں کے ذریعے کی جائے تاکہ کسی بھی قسم کی دھوکہ دہی یا غیر قانونی سرگرمی سے بچا جا سکے۔