چین کے شہر چھنگ تائو میں قائم ایک ثقافتی مرکز میں گندم کے آٹے اور میدے سے مختلف اقسام کے آرائشی فن پارے، مجسمے اور تحائف تیار کیے جاتے ہیں، جنہیں گھروں، دفاتر، دکانوں اور گاڑیوں میں سجاوٹ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ثقافتی مرکز میں تیار کیے جانے والے یہ فن پارے مختلف رنگوں اور نقش و نگار سے مزین ہوتے ہیں کاریگر گندم کے آٹے اور میدے کو مختلف اشکال میں ڈھال کر انتہائی مہارت اور نفاست سے بچوں کے کھلونے، گڑیا، جانوروں کے مجسمے اور دیگر آرائشی اشیاء تیار کرتے ہیں۔
ثقافتی مرکز کی انتظامیہ کے مطابق لوگ شادیوں اور دیگر تقریبات کے لیے بھی آٹے اور میدے سے خصوصی سجاوٹی اشیاء اور تحائف تیار کرواتے ہیں،انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آٹے سے فن پارے تیار کرتے وقت اس میں ایک خاص کیمیکل شامل کیا جاتا ہے، جس کا مقصد تیار شدہ اشیاء کو طویل عرصے تک خراب ہونے سے محفوظ رکھنا ہے۔
ان فن پاروں کی تیاری میں آٹے کو مطلوبہ شکل دینا، اس پر باریک نقش و نگار بنانا اور پھر مختلف رنگوں سے سجانا شامل ہے۔ اس تمام عمل کے لیے کاریگروں کو مہارت اور باریک بینی سے کام کرنا پڑتا ہے۔
جدید مشینی دور کے باوجود چھنگ تائو کے اس ثقافتی مرکز میں روایتی دستکاری کا یہ فن جاری ہے، جہاں کاریگر گندم کے آٹے اور میدے کو آرائشی اشیاء میں ڈھال کر چین کی قدیم ثقافتی اور فنی روایت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔