ایران کے خلاف جنگ امریکا کی بڑی غلطی تھی، یورپ بھی اب عالمی فیصلے کرنے کے قابل نہیں رہا، سلووینیا کی صدر کا بڑا بیان

ایران کے خلاف جنگ امریکا کی بڑی غلطی تھی، یورپ بھی اب عالمی فیصلے کرنے کے قابل نہیں رہا، سلووینیا کی صدر کا بڑا بیان

سلووینیا کی صدر نتاشا پیرک موسار نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر ایک انتہائی اہم اور تہلکہ خیز بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ ایک سنگین غلطی تھی، جس کا ادراک اب خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی ہو چکا ہے۔

انہوں نے بین الاقوامی معاملات میں یورپی یونین کے کمزور ہوتے ہوئے کردار پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ مشترکہ خارجہ پالیسی میں اتحاد کا فقدان یورپی بلاک کو عالمی سطح پر تنہا اور محدود کر رہا ہے۔

قطر کا ثالثی کردار اور جنگ بندی کی کوششیں

بین الاقوامی نشریاتی ادارے ‘الجزیرہ’ کو دیے گئے ایک خصوصی اور تفصیلی انٹرویو میں صدر نتاشا پیرک موسار نے مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے جاری کوششوں پر روشنی ڈالی۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات کو ملکی اور بین الاقوامی عدالتوں میں اٹھایا جائے، ایرانی سپریم لیڈر

 انہوں نے قطر کی حکومت کی جانب سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے اور کسی پائیدار معاہدے تک پہنچنے کے لیے ادا کیے جانے والے ثالثی کردار کی کھل کر تعریف کی۔

ان کا کہنا تھا کہ قطر نے ہمیشہ بحرانوں کے حل کے لیے ایک غیر جانبدار اور مضبوط پل کا کام کیا ہے، اور موجودہ حالات میں جنگ بندی کے لیے اس کی کوششیں قابل تحسین ہیں۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی پر کڑی تنقید

صدر موسار نے یورپی یونین کے اندرونی اختلافات اور سفارتی کمزوریوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یورپی بلاک عالمی سطح پر اس لیے کمزور دکھائی دے رہا ہے کیونکہ وہ اہم خارجہ امور پر ایک مشترکہ اور متفقہ مؤقف اختیار کرنے میں مسلسل ناکام رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس اتحاد کے فقدان نے نہ صرف یورپی یونین کے اثر و رسوخ کو محدود کر دیا ہے بلکہ بین الاقوامی معاملات میں اس کی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کی وجہ سے دنیا کے بڑے فیصلوں میں یورپ کا کردار برائے نام رہ گیا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں، خاص طور پر 2018 میں جب امریکا نے ایران جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کی تھی۔

اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ براہ راست فوجی تصادم اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی تپش نے عالمی برادری کو شدید تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔

مزید پڑھیں:امریکا کا ایران کے خلاف ایک اور بڑا منصوبہ منظر عام پرآگیا، غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے تہلکہ خیزانکشافات

ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے دنیا بھر کی نظریں اس بات پر لگی ہیں کہ آیا وہ ایران کے خلاف ‘زیادہ سے زیادہ دباؤ’ کی پرانی پالیسی جاری رکھیں گے یا پھر کسی نئی سفارتی ڈیل کی طرف بڑھیں گے۔ ایسے ماحول میں یورپی یونین کے ایک اہم رکن ملک کی سربراہ کا یہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

سلووینیا کی صدر کا یہ بیان اس بات کی واضح عکاسی کرتا ہے کہ اب خود یورپی ممالک کے اندر امریکا اور اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔

بدلتا ہوا امریکی رخ

صدر موسار کا یہ دعویٰ کہ ڈونلڈ ٹرمپ حقیقت کا ادراک کر چکے ہیں، اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ شاید پس پردہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان روابط قائم ہو رہے ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ خطے میں ایک اور طویل اور مہنگی جنگ سے بچنا چاہتی ہے۔

یورپی یونین کی تقسیم

یورپی یونین کا غزہ، لبنان اور ایران کے معاملات پر منقسم ہونا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ فرانس، جرمنی اور دیگر رکن ممالک اپنے انفرادی مفادات کو یورپی اتحاد پر ترجیح دے رہے ہیں، جس کا نتیجہ عالمی سطح پر ان کی سفارتی پسپائی کی صورت میں نکل رہا ہے۔

علاقائی ثالثوں کی اہمیت

قطر جیسے چھوٹے لیکن معاشی اور سفارتی طور پر مضبوط ممالک کا ابھرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل کے عالمی معاہدوں میں روایتی عالمی طاقتوں کے بجائے علاقائی ثالث زیادہ موثر کردار ادا کریں گے۔

Related Articles