پنجاب حکومت نے امتحانی نظام میں اصلاحات کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے آئندہ تعلیمی سیشن سے پیپر چیکنگ اور امتحانی نگرانی (انویجلیشن) کے لیے سرکاری اساتذہ کو تعینات نہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات کے مطابق امتحانی عمل کو مزید شفاف، مؤثر اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے اب پیپر چیکنگ اور انویجلیشن کی ذمہ داریاں نوجوان یونیورسٹی گریجویٹس کے سپرد کی جائیں گی۔
محکمہ اسکول ایجوکیشن کے مطابق اس مقصد کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام کا آغاز کر دیا گیا ہے جس کے تحت صرف تربیت یافتہ افراد ہی امتحانی خدمات انجام دے سکیں گے۔ وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ نئے چیئرمین امتحانی بورڈز کی تعیناتی کے بعد امتحانی اصلاحات کا نیا مرحلہ جلد شروع کیا جائے گا تاکہ امتحانات کے انعقاد، نگرانی اور جانچ کے نظام کو مکمل طور پر شفاف اور قابلِ اعتماد بنایا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تعلیم کے شعبے میں کسی قسم کی سیاست کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے اور تمام اصلاحات کا مقصد طلبہ کو منصفانہ اور معیاری امتحانی نظام فراہم کرنا ہے۔