تحقیقی ادارے گارٹنر نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ دو برسوں میں کمپنیوں کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال کی لاگت سافٹ ویئر ڈویلپرز کی ماہانہ تنخواہوں کے برابر، یا بعض صورتوں میں اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق جنریٹو اے آئی، اے آئی کوڈنگ ٹولز اور خودکار اے آئی ایجنٹس کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث کمپنیوں کے اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ اے آئی سروسز میں مقررہ سبسکرپشن فیس کے بجائے استعمال کے حساب سے ادائیگی کا رجحان بھی لاگت بڑھانے کی ایک بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
گارٹنر نے اپنی پیش گوئی عالمی سطح پر ایک سافٹ ویئر ڈویلپر کی اوسط 2 ہزار امریکی ڈالر ماہانہ تنخواہ کو بنیاد بنا کر کی ہے۔ تاہم ادارے نے واضح کیا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ملک میں اے آئی کا خرچ ہر ڈویلپر کی تنخواہ سے زیادہ ہوگا، کیونکہ بعض ممالک، خصوصاً امریکا میں، سافٹ ویئر انجینیئرز کی آمدنی اس سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔
گارٹنر کے سینئر پرنسپل تجزیہ کار نتیش تیاگی کے مطابق بعض اداروں میں اے آئی کے استعمال کے غیر معمولی اخراجات پہلے ہی سامنے آ چکے ہیں۔ ان کے بقول ایک سافٹ ویئر ڈویلپر نے صرف ایک ماہ میں تقریباً 20 ہزار ڈالر مالیت کے اے آئی ٹوکنز استعمال کیے، جبکہ ایک کاروباری صارف کا بل 32 ہزار ڈالر تک پہنچ گیا۔س
میڈیا رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر کمپنیاں اے آئی ٹوکنز کے استعمال پر مؤثر نگرانی نہ رکھ سکیں تو اخراجات تیزی سے بڑھ سکتے ہیں۔ اس وقت کئی اے آئی فراہم کرنے والی کمپنیاں صارفین کو لاگت کنٹرول کرنے کے لیے مؤثر ٹولز فراہم نہیں کر رہیں، جس سے بجٹ کا درست اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔
گارٹنر کے مطابق اے آئی ایجنٹس کے ذریعے خودکار انداز میں کام انجام دینے کا رجحان بھی اخراجات میں اضافے کا باعث بن رہا ہے، کیونکہ یہ سسٹمز محدود انسانی نگرانی کے ساتھ مسلسل کام کرتے رہتے ہیں اور بڑی مقدار میں ٹوکنز استعمال کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کمپنیوں کی کارکردگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، تاہم اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس کے استعمال کی لاگت، بجٹ اور سرمایہ کاری پر حاصل ہونے والے فائدے (آر او آئی)کا باقاعدہ جائزہ لیتے رہیں، تاکہ غیر ضروری اخراجات سے بچا جا سکے۔