شوگر کا انقلابی علاج دریافت، جلد پاکستانی مریض بھی چھٹکارا پا سکیں گے

شوگر کا انقلابی علاج دریافت، جلد پاکستانی مریض بھی چھٹکارا پا سکیں گے

چینی سائنسدانوں نے ایک انجینیئرڈ پروبائیوٹک تیار کر لیا ہے جو جسم میں شوگر کی سطح کو محسوس کر کے خود بخود گلوکوز کم کرنے والا ہارمون خارج کر سکتا ہے۔

اس نئی دریافت کو ذیابیطس کے علاج کے لیے ایک ممکنہ انقلابی طریقہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اگر یہ تحقیق مزید آزمائشوں میں کامیاب رہی تو مستقبل میں پاکستان سمیت دنیا بھر کے معالجین اسے شوگر کے مریضوں کے لیے تجویز کر سکتے ہیں۔

نئی دریافت کیا ہے؟

شنگھائی کی ایسٹ چائنا نارمل یونیورسٹی کے محققین نے یہ زبانی پروبائیوٹک تیار کیا ہے، جسے مختصراً ’گفٹ‘ کا نام دیا گیا ہے۔

یہ خصوصی طور پر اس انداز میں انجینیئر کیا گیا ہے کہ آنتوں میں عارضی طور پر قیام کرے اور خون میں شوگر کی سطح میں ہونے والی تبدیلیوں پر ردعمل ظاہر کرے۔

یہ بھی پڑھیں:40 جان بچانے والی نئی ادویات کی قیمتوں کی منظوری لٹک گئی، کینسر اور شوگر کے مریض شدید مشکلات کا شکار

نظام کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ ضرورت کے مطابق جی ایل پی ون نامی ہارمون خارج کرے، جس سے جسم میں شوگر کنٹرول کے لیے ایک خودکار فیڈ بیک نظام تشکیل پاتا ہے۔

روایتی علاج کے برعکس، جس میں مریضوں کو باقاعدگی سے دوا لینا یا انجیکشن لگوانا پڑتا ہے، محققین اس نئے پروبائیوٹک کو ایک ’زندہ دوا‘ قرار دے رہے ہیں جو زبانی طور پر لی جا سکتی ہے اور شوگر کی نگرانی کے ساتھ ساتھ علاج کا عمل بھی خود بخود انجام دیتی ہے۔

سائنسی طریقہ کار، مصنوعی حیاتیات کا استعمال

یہ نیا طریقہ کار مصنوعی حیاتیات کی مدد سے ایک پروبائیوٹک جرثومے کو، جیسا کہ محققین کہتے ہیں، ایک ’ذہین مجازی عضو‘ میں تبدیل کرتا ہے۔

زبانی طور پر جسم میں پہنچنے کے بعد یہ جرثومہ شوگر کی سطح میں اتار چڑھاؤ کو محسوس کر کے اسی مناسبت سے ہارمون کا اخراج ایڈجسٹ کرتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ نظام میٹابولک علاج کے لیے ایک پروگرام ایبل اور بند لوپ طریقہ فراہم کر سکتا ہے اور اس کے لیے خلیاتی پیوندکاری کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔

تحقیق کے مرکزی مصنف اور ایسٹ چائنا نارمل یونیورسٹی کے پروفیسر یے ہائی فینگ کے مطابق یہ نظام شوگر کی نگرانی کو ضرورت کے مطابق جی ایل پی ون کے اخراج سے مربوط کرتا ہے اور اسے انجینئرڈ پروبائیوٹک زندہ ادویات کے میدان میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔

روایتی علاج پر برتری کیوں؟

محققین کے مطابق زبانی پروبائیوٹکس ایسے طریقہ ہائے علاج کے مقابلے میں کئی فوائد رکھتے ہیں جو ممالیہ خلیوں پر مبنی ہوتے ہیں، جہاں پیوندکاری سے متعلق پیچیدگیاں اور مدافعتی نظام کے ردعمل جیسے خدشات موجود رہتے ہیں۔

چونکہ یہ پروبائیوٹک زبانی طور پر لیا جاتا ہے اور جسم میں مستقل طور پر نہیں رہتا، اس لیے یہ محفوظ اور آسان علاج کا ذریعہ بن سکتا ہے، جس سے مریضوں کو بار بار انجیکشن یا پیچیدہ طریقہ کار سے گزرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

ذیابیطس کا عالمی بحران

یہ دریافت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں ذیابیطس ایک سنگین صحت عامہ کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی ذیابیطس فیڈریشن کے تخمینوں کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 530 ملین سے زیادہ بالغ افراد ذیابیطس کا شکار ہیں اور یہ تعداد 2050 تک 850 ملین سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔

مزید پڑھیں:ذیابیطس کے علاج میں بڑی پیش رفت: جدید تھراپی کی آزمائش سے مریضوں کی مکمل شفایابی

پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس کی بڑی وجوہات میں غیر متوازن غذا، ورزش کی کمی اور موروثی عوامل شامل ہیں۔ ایسے میں کم لاگت اور آسان علاج کے طریقوں کی تلاش طبی سائنس کی ترجیحات میں شامل ہو چکی ہے۔

کیا یہ ذیابیطس کے علاج کا مستقبل ہے؟

اس نئی دریافت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ روایتی انجیکشن پر مبنی علاج کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان اور کم تکلیف دہ متبادل پیش کرتی ہے۔

اگر یہ ٹیکنالوجی کلینیکل آزمائشوں میں کامیاب رہی، تو یہ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک، جہاں مہنگے انسولین انجیکشن اور مسلسل نگرانی کا نظام عام آدمی کی پہنچ سے دور ہے، کے لیے ایک بڑی سہولت ثابت ہو سکتی ہے۔

تاہم اس مرحلے پر یہ محض ایک تحقیقی پیش رفت ہے، نہ کہ موجودہ علاج کا مستقل متبادل، محققین نے خود بھی واضح کیا ہے کہ اس کے وسیع پیمانے پر طبی استعمال کا انحصار مزید جانچ اور تصدیق پر ہوگا۔

انسانوں پر بڑے پیمانے کی آزمائشیں طویل مدتی حفاظتی جائزے اور مختلف آبادیوں پر اثرات کا تجزیہ ابھی باقی ہے۔ اس کے باوجود یہ تحقیق مصنوعی حیاتیات اور ’زندہ ادویات‘ کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل ضرور ہے، جو مستقبل میں دائمی امراض کے علاج کے انداز کو یکسر بدل سکتی ہے۔

Related Articles