نیب نے تحقیقات کے لیے پاکستان کا پہلا اے آئی نظام تیار کر لیا

نیب نے تحقیقات کے لیے پاکستان کا پہلا اے آئی نظام تیار کر لیا

قومی احتساب بیورو (نیب) نے مالیاتی جرائم اور بدعنوانی کی تحقیقات کو جدید بنانے کے لیے پاکستان کا پہلا خودمختار جنریٹو مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی تحقیقاتی نظام تیار کر لیا ہے۔

نیشنل سینٹر آف آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے مطابق یہ نظام تحقیقاتی عمل کی رفتار، درستگی اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :جدید فیچرز، کم قیمت، میٹا کا نیا اسمارٹ چشمہ سامنے آ گیا

این سی اے آئی کے چیئرمین ڈاکٹر یاسر ایاز نے اس منصوبے کو ڈیجیٹل تبدیلی اور ادارہ جاتی جدیدکاری کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر تیار کیا گیا یہ اے آئی پلیٹ فارم نہ صرف ڈیٹا کی خودمختاری کو یقینی بنائے گا بلکہ اداروں کو اپنی معلومات اور نظام پر مکمل اختیار بھی فراہم کرے گا۔

ڈاکٹر یاسر ایاز کے مطابق یہ جدید نظام شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائری مینجمنٹ، مالیاتی تجزیے، شواہد کے انتظام اور فیصلہ سازی کے عمل میں تحقیقاتی افسران کی معاونت کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں :دنیا کا طاقتور ترین کمپیوٹر اب کس ملک کے پاس،تفصیلات سامنے آگئیں

انہوں نے کہا کہ اے آئی پلیٹ فارم بڑی مقدار میں دستیاب معلومات کا تیزی سے تجزیہ کر کے اہم نتائج اخذ کرنے اور پیچیدہ مالیاتی و وائٹ کالر جرائم کے مقدمات میں شواہد کی بنیاد پر فیصلوں میں مدد فراہم کرے گا۔

این سی اے آئی کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان کی وسیع تر ڈیجیٹل گورننس حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد سرکاری اداروں میں مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینا ہے۔

اس نظام کا تعارف نیب اسلام آباد/راولپنڈی کے ڈائریکٹر جنرل وقار احمد چوہان کی زیر صدارت ہونے والے ایک اجلاس میں کرایا گیا، جہاں این سی اے آئی کے ماہرین نے پلیٹ فارم کی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ بھی پیش کیا اور منصوبے کی پیش رفت سے متعلق بریفنگ دی۔

editor

Related Articles