امریکی سینیٹ میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹ سینیٹرز نے وائٹ ہاؤس کی حمایت یافتہ پابندیوں کا ایک بل پیش کر دیا ہے جس کے تحت روسی تیل خریدنے والے بھارت پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔
مجوزہ قانون کا مقصد روس کی توانائی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی کو محدود کرنا اور یوکرین جنگ کے تناظر میں ماسکو پر مزید معاشی دباؤ ڈالنا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اگر یہ بل اگست سے قبل منظور ہو جاتا ہے تو اس کے بھارت اور امریکا کے تجارتی تعلقات، عالمی توانائی کی منڈی اور بین الاقوامی سفارت کاری پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
امریکی سینیٹر رچرڈ بلومن تھال نے بل کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجوزہ قانون کے تحت ٹیرف مخصوص طور پر روسی تیل خریدنے والے پانچ بڑے ممالک تک محدود ہوں گے اور ان کی شرح 100 فیصد تک ہو سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ روسی قدرتی گیس کے خریداروں کے لیے استثنا رکھا گیا ہے۔ ایسے ممالک جو روسی قدرتی گیس کی مجموعی درآمدات کا 15 فیصد سے کم خریدتے ہیں اور اپنی درآمدات میں کمی کے لیے نمایاں اقدامات کر رہے ہیں، وہ اس استثنا سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
مجوزہ بل کے قانون بننے کے لیے امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں سے منظوری اور صدر کے دستخط درکار ہوں گے۔ منظور ہونے کی صورت میں روسی توانائی خریدنے والے ممالک کے لیے امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔