کینٹ انتظامیہ کا بی آر ٹی پشاور سے 4 ارب روپے کا مطالبہ، لیکن کیوں ؟

کینٹ انتظامیہ کا بی آر ٹی پشاور سے 4 ارب روپے کا مطالبہ، لیکن کیوں ؟

خیبر پختونخوا میں گذشتہ 13 سال سے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے فلیگ شپ بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے پر کنٹونمنٹ بورڈ پشاور اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان نیا تنازع سامنے آ گیا ہے۔ کنٹونمنٹ بورڈ نے 3 ارب 55 کروڑ 78 لاکھ 79 ہزار روپے کی بقایا رقم کی ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہوئے نان اوبجیکشن سرٹیفیکیٹس (این او سیز )کو بھی ادائیگی سے مشروط کر دیا ہے۔

کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے کیے گئے مطالبے میں اراضی کے معاوضے اور کمرشلائزیشن چارجز کے علاوہ بی آر ٹی کی تعمیر کے دوران کینٹ کے رہائشیوں کو پیش آنے والی ذہنی اذیت کے عوض 5 کروڑ 40 لاکھ روپے کے ڈسٹریس چارجز بھی شامل ہیں۔

آزاد ڈیجیٹل کے پاس موجود دستاویزات کے مطابق کنٹونمنٹ بورڈ نے مجموعی طور پر 3 ارب 96 کروڑ 69 لاکھ 29 ہزار روپے کا کلیم کیا، جس میں سے 40 کروڑ 90 لاکھ 50 ہزار روپے پہلے ہی پی ڈی اے ادا کر چکی ہے، جبکہ باقی 3 ارب 55 کروڑ 78 لاکھ 79 ہزار روپے کی ادائیگی ابھی باقی ہے۔

مطالبہ کردہ رقم میں امن چوک (کیپٹن روح اللہ شہید چوک) کی 311 مرلے اراضی کے عوض 1 ارب 40 کروڑ 14 لاکھ روپے، جناح پارک کی 497 مرلہ اراضی کے عوض 2 ارب 23 کروڑ 98 لاکھ روپے، ڈبگری گارڈن اسٹیجنگ اسٹیشن کی کمرشلائزیشن فیس 27 کروڑ 9 لاکھ روپے جبکہ یکم جنوری 2019 سے 30 جون 2020 کے دوران بی آر ٹی تعمیراتی سرگرمیوں سے متاثر ہونے والے کینٹ کے رہائشیوں کے لیے 5 کروڑ 47 لاکھ روپے ڈسٹریس چارجز کی مد میں طلب کیے گئے ہیں۔

صوبائی حکومت کے ذرائع کے مطابق یہ معاہدہ پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے اُس وقت کے ڈائریکٹر جنرل اسرار الحق نے کیا تھا، جو وفاقی حکومت کے ملازم تھے اور ڈیپوٹیشن پر تعینات تھے۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس نوعیت کے معاہدے کے لیے صوبائی کابینہ کی منظوری لازمی تھی، جو حاصل نہیں کی گئی، اس لیے معاہدے کی قانونی حیثیت متنازع ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 40 کروڑ روپے سے زائد کی ادائیگی کرکے پی ڈی اے عملی طور پر کنٹونمنٹ بورڈ کے دعوے کو تسلیم کر چکی ہے، حالانکہ یہ رقم بی آر ٹی کے پی سی-ون میں شامل نہیں تھی۔

دوسری جانب سابق ڈی جی پی ڈی اے کا مؤقف ہے کہ بی آر ٹی منصوبے کے دوران صرف کنٹونمنٹ بورڈ ہی نہیں بلکہ واپڈا، سوئی گیس اور دیگر اداروں کو بھی انفراسٹرکچر کی منتقلی، معاوضوں اور دیگر واجبات کی مد میں ادائیگیاں کی گئی تھیں، اس لیے کنٹونمنٹ بورڈ کو کی جانے والی ادائیگی کو غیر معمولی قرار دینا درست نہیں۔

contributor

Related Articles