آزاد کشمیر کے مختلف شہریوں نے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے منسلک شرپسند عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کے خلاف کسی بھی قسم کی مسلح سرگرمی یا تشدد ناقابل قبول ہے۔
آزاد ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے ایک شہری نے کہا کہ سیاسی اختلاف رائے ہر معاشرے کا حصہ ہوتا ہے، تاہم ریاستی معاملات میں ذمہ داری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی گروہ کو ریاست کے خلاف اسلحہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایسے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرنی چاہیے۔
ایک اور شہری نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر ماضی میں ایک انتہائی پرامن خطہ سمجھا جاتا تھا، لیکن حالیہ حالات باعث تشویش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سمجھ نہیں آتی کہ اس پرامن خطے کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔
ایک شہری نے مطالبہ کیا کہ کالعدم تنظیم سے وابستہ شرپسند عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ خطے میں امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔
ایک اور شہری نے سیکیورٹی فورسز کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ عوام رات کو اس یقین کے ساتھ سوتے ہیں کہ سرحدوں پر تعینات اہلکار ان کی حفاظت کے لیے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک اور خطے کے امن و استحکام کے لیے سیکیورٹی اداروں کی قربانیاں قابل قدر ہیں۔
شہریوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آزاد کشمیر کے امن، استحکام اور قانون کی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے ریاستی اداروں کے ساتھ ر ممکن تعاون کیا جانا چاہیے۔