برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ سفوک کے مختلف دریاؤں سے حاصل کیے گئے ہر میٹھے پانی کے جھینگے میں کوکین کے آثار پائے گئے ہیں، جس نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
تحقیق کنگز کالج لندن اور یونیورسٹی آف سفوک کے سائنس دانوں نے مشترکہ طور پر کی۔ اس دوران سفوک کے5دریائی نظاموں، الڈ، باکس، ڈیبن، گپنگ اور ویونی سے 15 مختلف مقامات سے جھینگوں کے نمونے جمع کیے گئے۔
تحقیق کے مطابق تمام جھینگوں میں نہ صرف کوکین بلکہ کیٹامین، نسخے پر ملنے والی ادویات ویلیم اور زانیکس کے اجزا، جبکہ بعض ممنوعہ زرعی ادویات کے آثار بھی پائے گئے۔
ماہرین کے مطابق یہ کیمیائی مادے غالباً انسانی فضلے کے ذریعے دریاؤں تک پہنچ رہے ہیں، کیونکہ موجودہ سیوریج ٹریٹمنٹ سسٹم ان ادویات اور منشیات کے ذرات کو مکمل طور پر ختم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
اگرچہ ان مادوں کی مقدار کم تھی، تاہم محققین نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کی غیر مرئی کیمیائی آلودگی آبی حیات کی صحت، رویے اور افزائشِ نسل پر طویل المدتی منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے، حتیٰ کہ ان علاقوں میں بھی جو بظاہر صاف اور قدرتی دکھائی دیتے ہیں۔
یہ تحقیق سائنسی جریدے انوائرمنٹ انٹرنیشنل میں شائع ہوئی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ آبی ماحول کو محفوظ رکھنے کے لیے فضلے کی صفائی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔