بھارت کی ایک یونیورسٹی نے ایسا حیران کن واقعہ پیش کیا ہے جس نے طلبہ، والدین اور تعلیمی حلقوں کو حیرت میں ڈال دیا۔ یونیورسٹی نے ایک طالب علم کا نتیجہ اس امتحان سے پہلے ہی جاری کر دیا، جس کا امتحان ابھی ہوا ہی نہیں تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ ریاست بہار کی جے پرکاش یونیورسٹی میں پیش آیا، جہاں بی اے تیسرے سمسٹر کے طالب علم کنچن کمار کی مارک شیٹ امتحان سے قبل ہی سرکاری ڈیجیٹل پلیٹ فارم ڈیجی لاکر پر اپ لوڈ کر دی گئی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق طالب علم تیسرے سمسٹر کے امتحان کا آن لائن فارم جمع کرانے کے لیے اپنے کالج پہنچا۔ دستاویزات کی جانچ کے دوران جب اس نے ڈیجی لاکر کھولا تو وہاں اس کے نام سے بیچلر آف آرٹس، سمسٹر 3، اپریل 2025 کی مارک شیٹ پہلے سے موجود تھی۔
حیران کن بات یہ تھی کہ مارک شیٹ میں طالب علم کا نام، رول نمبر، رجسٹریشن نمبر اور کالج کی تمام تفصیلات درست درج تھیں، جبکہ اسے امتحان دیے بغیر ہی پاس بھی قرار دے دیا گیا تھا۔
مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ یونیورسٹی نے اسی طالب علم کا تیسرے سمسٹر کے امتحان کا فارم بھی بغیر کسی اعتراض کے قبول کر لیا اور اس سے امتحانی فیس بھی وصول کر لی۔
اس غیر معمولی صورتحال کے بعد طالب علم الجھن کا شکار ہے کہ آیا وہ باقاعدہ امتحان دے یا ڈیجی لاکر پر موجود مارک شیٹ کو ہی اپنا سرکاری نتیجہ تصور کرے۔
طالب علم کا کہنا ہے کہ چونکہ ڈیجی لاکر مرکزی حکومت کا سرکاری ڈیجیٹل دستاویزاتی پلیٹ فارم ہے، اس لیے وہاں اس نوعیت کی غلطی صرف ایک تکنیکی خرابی نہیں بلکہ طلبہ کے مستقبل سے جڑا ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔
دوسری جانب جے پرکاش یونیورسٹی انتظامیہ نے تاحال اس واقعے پر کوئی باضابطہ مؤقف جاری نہیں کیا، جس کے باعث طلبہ، والدین اور تعلیمی ماہرین میں تشویش پائی جا رہی ہے اور یونیورسٹی سے وضاحت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔