غیر قانونی سم رجسٹریشن مہنگی پڑ گئی،موبائل کمپنیوں پر بھاری جرمانے عائد

غیر قانونی سم رجسٹریشن مہنگی پڑ گئی،موبائل کمپنیوں پر بھاری جرمانے عائد

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے قومی شناختی کارڈ ہولڈرز کی اجازت کے بغیر سم کارڈز جاری کرنے پر ملک کی چاروں بڑی موبائل فون کمپنیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مجموعی طور پر 74 کروڑ روپے کے جرمانے عائد کر دیے۔

پی ٹی اے کے مطابق یہ جرمانے سم کے اجرا سے متعلق قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزیوں پر کیے گئے ہیں۔اتھارٹی نے زونگ پر غیر قانونی طور پر سمز جاری کرنے پر 15 کروڑ 56 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔

اسی طرح جاز پر غیر قانونی سمز کے اجرا اور مؤثر نگرانی نہ کرنے پر 11 کروڑ 67 لاکھ روپے جبکہ ٹیلینور پر سم رجسٹریشن قوانین کی خلاف ورزی پر 11 کروڑ 67 لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:11 سال تک چھپا رہنے والا نیا سیارہ دریافت، ماہرین بھی حیران رہ گئے

پی ٹی اے نے سب سے بڑا جرمانہ یوفون پر عائد کیا، جسے متعدد ریگولیٹری خلاف ورزیوں پر 23 کروڑ 34 لاکھ روپے سے زائد ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔

پی ٹی اے نے اپنے فیصلے میں کہا کہ موبائل آپریٹرز سمز کے اجرا کے عمل میں ہونے والی بے ضابطگیوں کے ذمہ دار ہیں اور انہیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ تمام ریگولیٹری تقاضوں پر مکمل عمل درآمد ہو۔

اتھارٹی نے واضح کیا کہ فرنچائزز کی جانب سے کی جانے والی خلاف ورزیوں کی ذمہ داری بھی متعلقہ موبائل کمپنیوں پر عائد ہوگی۔ پی ٹی اے کے مطابق کمپنیوں نے اپنی فرنچائزز اور بائیومیٹرک تصدیقی نظام کی مؤثر نگرانی نہیں کی، جس کے باعث غیر مجاز سم رجسٹریشن کے واقعات پیش آئے۔

یہ بھی پڑھیں :رات 12 بجے کے بعد سوشل میڈیا بند؟برطانیہ میں نئے قوانین کی تیاری

پی ٹی اے نے چاروں کمپنیوں کو مقررہ مدت میں جرمانے جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ عدم ادائیگی کی صورت میں مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔

اتھارٹی کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر سم کارڈز کا اجرا شناختی چوری، سائبر فراڈ اور مالیاتی جرائم کا سبب بن سکتا ہے، اسی لیے صارفین کے تحفظ اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے سم رجسٹریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد ناگزیر ہے۔

editor

Related Articles