آزاد انتخاب

,

تازہ ترین

سعودی عرب نے پاکستان کا 3 ارب ڈالر قرض رول اوور کر دیا، وزیر خزانہ

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کو فراہم کیا گیا 3 ارب ڈالر کا قرض کامیابی سے رول اوور (تجدید) کر دیا ہے، جس سے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر موجودہ سطح پر برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے سعودی قرض کی تجدید سے متعلق سوال کے جواب میں مختصر طور پر کہا، “سب ٹھیک ہے”۔ ان کے اس بیان سے واضح ہوا کہ قرض کی مدت میں توسیع کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔

سعودی عرب نے رواں سال اپریل میں پاکستان کو تین ماہ کے لیے 3 ارب ڈالر کا قرض فراہم کیا تھا تاکہ پاکستان متحدہ عرب امارات کا واجب الادا قرض واپس کر سکے۔ یہ قرض رواں ہفتے کے آغاز میں میچور ہو گیا تھا، تاہم گزشتہ ایک ہفتے سے اس کی تجدید کے حوالے سے وزارت خزانہ کی جانب سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی تھی۔

 یہ بھی پڑھیں :پاکستان نے سعودی عرب سے رعایتی تیل فراہمی کی درخواست کر دی

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب گزشتہ ہفتے وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری کے ہمراہ سعودی عرب کے دورے پر گئے تھے جہاں دونوں ممالک کے درمیان مالی، اقتصادی اور توانائی کے شعبوں میں تعاون سمیت باہمی دلچسپی کے متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وطن واپسی کے بعد سعودی قرض کی تجدید کے بارے میں ان کا یہ پہلا عوامی بیان ہے۔

پاکستان کے 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات نے اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ اگلے سال ستمبر تک اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں اپنے مجموعی 12.5 ارب ڈالر کے ڈپازٹس برقرار رکھیں گے۔

بعد ازاں متحدہ عرب امارات نے اپنی مالی معاونت واپس لے لی، جس کے بعد سعودی عرب نے اپنا تعاون بڑھاتے ہوئے پاکستان کے لیے مجموعی مالی ایکسپوژر 8 ارب ڈالر تک پہنچا دیا۔

ذرائع کے مطابق حکومت بیرونی قرضوں کی مدت میں توسیع کے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے، جبکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت قائم بجلی گھروں کے لیے چینی کمپنیوں کو واجب الادا توانائی قرضوں کی ادائیگی مرحلہ وار کرنے کے امکانات بھی زیر غور ہیں۔

اسی دوران پاکستان نے سعودی عرب سے 15 سال کی مدت کے لیے 6.7 ارب ڈالر کی مؤخر ادائیگی پر تیل کی سہولت فراہم کرنے کی درخواست بھی کی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے یہ سہولت انتہائی اہم ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :کارپوریٹ سیکٹر کے لیے تاریخی ریلیف دیا گیا، سپر ٹیکس میں نمایاں کمی کی، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

دوسری جانب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) میں 1,300 سے زائد خالی آسامیوں کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، جو ادارے کی منظور شدہ افرادی قوت کا تقریباً 38 فیصد بنتی ہیں۔

اجلاس کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور بی آئی ایس پی کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد کے درمیان اس معاملے پر اختلاف رائے سامنے آیا۔ وزیر خزانہ نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ معاملہ قائمہ کمیٹی برائے تخفیف غربت کے سپرد کیا جانا چاہیے، جبکہ روبینہ خالد نے کہا کہ چونکہ وزارت خزانہ نے نئی بھرتیوں کی مخالفت کی تھی، اس لیے معاملہ خزانہ کمیٹی میں لایا گیا۔

editor

Related Articles