تنزانیہ کے شمال میں واقع لیک نیٹرون دنیا کی منفرد اور انتہائی خطرناک جھیلوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں پانی کی غیر معمولی کیمیائی ساخت جانوروں کی لاشوں کو محفوظ رکھتے ہوئے انہیں پتھر جیسی شکل دے دیتی ہے۔
ماہرین کے مطابق جھیل کے پانی میں سوڈیم کاربونیٹ سمیت مختلف معدنیات کی مقدار بہت زیادہ ہے، جس کے باعث اس کا پی ایچ تقریباً 10.5 تک پہنچ جاتا ہے۔ یہی انتہائی الکلائن ماحول بعض جانوروں کی باقیات کو محفوظ کر کے انہیں چونے یا پتھر سے بنی مورتی جیسا بنا دیتا ہے۔
اس عجیب منظر کو عالمی شہرت یافتہ فوٹوگرافر نِک برانڈٹ نے اپنی تصاویر میں محفوظ کیا، جن میں جھیل کے کنارے پرندے پتھر کے مجسموں کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔ ان تصاویر نے دنیا بھر میں حیرت اور تجسس پیدا کیا۔
اگرچہ لیک نیٹرون کا ماحول زیادہ تر جانداروں کے لیے نہایت سخت ہے، لیکن یہ جھیل لیسر فلیمنگو (گلابی فلیمنگو کی ایک قسم) کی افزائش نسل کے لیے انتہائی اہم مقام سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ جھیل کے پانی میں زیادہ تر شکاری جانور زندہ نہیں رہ سکتے، اس لیے فلیمنگو یہاں نسبتاً محفوظ ماحول میں اپنے بچوں کی پرورش کرتے ہیں۔
سائنس دانوں کے مطابق لیک نیٹرون کی یہ منفرد خصوصیات اسے دنیا کی انتہائی غیر معمولی قدرتی جگہوں میں شامل کرتی ہیں، جہاں بظاہر سخت حالات کے باوجود بعض جاندار کامیابی سے زندگی گزار رہے ہیں۔